کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: جب نمازی کے ساتھ بات کی جائے تو نماز کے دوران اشارے کے ساتھ جواب دینے کی رخصت ہے ،
حدیث نمبر: Q889
إِذَا كَلَّمَ الْمُصَلِّي وَفِي الْخَبَرِ مَا دَلَّ عَلَى الرُّخْصَةِ فِي إِصْغَاءِ الْمُصَلِّي إِلَى مُكَلِّمِهِ وَاسْتِمَاعِهِ لَكَلَامِهِ فِي الصَّلَاةِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ نمازی کو اپنے ساتھ کلام کرنے والے کی گفتگو کو پوری توجہ اور دھیان سے سننے کی رخصت ہے
حدیث نمبر: 889
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، نَا خَلادٌ الْجُعْفِيُّ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، " فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى حِمَارٍ لَهُ ، وَهُوَ يُصَلِّي ، فَكُنْتُ أُكَلِّمُهُ فَأَوْمَأَ إِلَيَّ بِيَدِهِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا جابر رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بنو مسطلق کے پاس ( کسی کام سے ) بھیجا ۔ چنانچہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار نماز پڑھ رہے تھے ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کلام کرتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا ۔