کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: جب نمازی کو سلام کیا جائے تو اشارے کے ساتھ نماز کے دوران سلام کا جواب دینے کی رخصت ہے
حدیث نمبر: 888
نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، نَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، وَأَبُو عَمَّارٍ ، قَالَ أَبُو عَمَّارٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَقَالَ عَلِيٌّ : أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ قُبَا ، وَدَخَلَ عَلَيْهِ رِجَالٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ ، فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا : كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي ؟ قَالَ : " كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : هَذَا حَدِيثُ أَبِي عَمَّارٍ ، زَادَ عَبْدُ الْجَبَّارِ ، قَالَ سُفْيَانُ : قُلْتُ لِزَيْدٍ : سَمِعْتَ هَذَا مِنِ ابْنِ عُمَرَ ؟ قَالَ : نَعَمْ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا میں داخل ہوئے تو کچھ انصاری صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنے کے لئے حاضر ہو گئے ، میں نے حضرت صہیب سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی حالت میں سلام کا جواب کیسے دیتے تھے ؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کے اشارے کے ساتھ جو اب دیتے تھے ۔ جناب سفیان کہتے ہیں کہ میں نے زید بن اسلم سے پوچھا تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ روایت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ، ہاں ( سنی ہے ) ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأفعال المباحة فى الصلاة / حدیث: 888
تخریج حدیث اسناده صحيح