کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: نمازی کو نماز میں اپنے کپڑے میں تھوکنے اور کپڑے کو ملنے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: Q880
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْبُزَاقَ لَيْسَ بِنَجَسٍ، إِذْ لَوْ كَانَ نَجِسًا لَمْ يَأْمُرِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُصَلِّيَ لِلْبَصْقِ فِي ثَوْبِهِ فِي الصَّلَاةِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ تھوک نجس نہیں ہے ۔ کیونکہ اگر یہ ناپاک و نجس ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازی کو نماز کی حالت میں اسے اپنے کپڑے میں تھوکنے کا حُکم نہ دیتے
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأفعال المباحة فى الصلاة / حدیث: Q880
حدیث نمبر: 880
نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، قَالَ : نَا عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْجِبُهُ الْعَرَاجِينُ أَنْ يُمْسِكَهَا بِيَدِهِ ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ذَاتَ يَوْمٍ ، وَفِي يَدِهِ وَاحِدٌ مِنْهَا ، فَرَأَى نُخَامَاتٍ فِي قِبْلَةٍ الْمَسْجِدِ ، فَحَتَّهُنَّ حَتَّى أَنْقَاهُنَّ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ مُغْضَبًا ، فَقَالَ : " أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَسْتَقْبِلَهُ رَجُلٌ ، فَيَبْصُقَ فِي وَجْهِهِ ؟ ! إِنَّ أَحَدُكُمْ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ فَإِنَّمَا يَسْتَقْبِلُ رَبَّهُ ، وَالْمَلَكُ عَنْ يَمِينِهِ ، فَلا يَبْصُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَلا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلْيَبْصُقْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى ، أَوْ عَنْ يَسَارِهِ ، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَقُلْ هَكَذَا فِي طَرَفِ ثَوْبِهِ ، وَرَدَّ بَعْضَهُ فِي بَعْضٍ " . قَالَ الدَّوْرَقِيُّ : وَأَرَانَا يَحْيَى كَيْفَ صَنَعَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کے خوشے اپنے ہاتھ میں رکھنا بہت پسند تھا ، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک خوشہ تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھی تو اسے کھرچ کر خوب صاف کر دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت ناراضگی کی حالت میں لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ” کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرے گا کہ کوئی شخص اس کے سامنے آکر اس کے منہ پر تھوک دے ؟ بلاشبہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب کی طرف منہ کرکے کھڑا ہوتا ہے اور فرشتہ اس کی دائیں طرف ہوتا ہے ، لہٰذا اُسے اپنے سامنے اور اپنی دائیں جانب نہیں تھوکنا چاہئے ، اُسے اپنے بائیں پاؤں یا اپنی بائیں جانب تھوکنا چاہیے ، لیکن اگر وہ جلدی آجائے تو وہ اپنے کپڑے کے ایک کنارے میں تھوک کر کنارے کو آپس میں مل لے ۔“ جناب دورقی کہتے ہیں کہ استاد محترم جناب یحیٰی نے ہمیں اس طرح کر کے دکھایا ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأفعال المباحة فى الصلاة / حدیث: 880
تخریج حدیث اسناده صحيح