کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ وہ کلام جو نماز کے علاوہ بھی کرنا درست نہیں ہے ،
حدیث نمبر: Q864
إِذَا تَكَلَّمَ بِهِ الْمُصَلِّي فِي صَلَاتِهِ جَهْلًا مِنْهُ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ التَّكَلُّمُ بِهِ غَيْرُ مُفْسِدٍ لِلصَّلَاةِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اگر نمازی جہالت و نا واقفیت کی بنا پر وہی کلام نماز کے دوران کردے تو وہ نماز کو فاسد نہیں کرے گی ۔
حدیث نمبر: 864
نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاةَ ، وَقُمْنَا مَعَهُ ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ فِي الصَّلاةِ : اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا ، وَلا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِلأَعْرَابِيِّ : " لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا " يُرِيدُ رَحْمَةَ اللَّهِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز قائم کی تو ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو گئے ، تو ایک بدوی شخص نے نماز میں اس طرح دعا مانگی ، اے اللہ مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو بدوی سے کہا : ” تم نے اللہ کی وسیع رحمت کو تنگ کر دیا ہے ۔ “