کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: نماز میں دجال کے فتنے ، زندگی اور موت کے فتنے اور گناہ اور قرض سے پناہ طلب کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 852
أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ أَبَاهُ ، وَشُعَيْبًا أَخْبَرَاهُمْ ، قَالا : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو فِي صَلاتِهِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ " قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقَالَ قَائِلٌ : مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ ، وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے ، « اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ » ”اے اللہ ، میں عذاب قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں ، اور میں دجّال کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، اور میں زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ ، میں گناہ میں ملوث ہونے اور قرض میں پھنسنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ” ایک کہنے والے نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرض سے کس قدر زیادہ پناہ مانگتے ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک آدمی جب مقروض ہوجاتا ہے تو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الكلام المباح فى الصلاة والدعاء والذكر، ومسألة الرب عز وجل وما يضاهي هذا ويقاربه / حدیث: 852