کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: نمازی کے آگے عورت سوئی ہوئی ہو یا لیٹی ہو تو نماز پڑھنے کی رخصت کا بیان ۔
حدیث نمبر: 821
نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى ابْنُ أَيُّوبَ الْغَافِقِيُّ ، حَدَّثَنِي عَمِّي إِيَاسُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ مِنَ اللَّيْلِ ، وَعَائِشَةُ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : قَوْلُهُ يُسَبِّحُ مِنَ اللَّيْلِ يُرِيدُ يَتَطَوَّعُ بِالصَّلاةِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب ایاس بن عامر بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نفل پڑھا کرتے تھے جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوتیں ـ “ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں ” يسبح من الليل “ سے ان کی مراد نفل نماز ہے ـ
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب سترة المصلي / حدیث: 821
تخریج حدیث صحيح
حدیث نمبر: 822
نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي صَلاتَهُ بِاللَّيْلِ ، وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ كَاعْتِرَاضِ الْجِنَازَةِ " زَادَ الْمَخْزُومِيُّ مَرَّةً : " فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَخَّرَنِي بِرِجْلِهِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز ( یعنی نماز تہجّد ) اس حال میں ادا فرماتے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی ۔ جناب مخزومی کی روایت میں یہ اضافہ ہے ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے قدم سے پیچھے کر دیتے ـ
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب سترة المصلي / حدیث: 822
تخریج حدیث صحيح مسلم