حدیث نمبر: Q818
وَالْإِيضَاحِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَبَاحَ لِلْمُصَلِّي مَقَاتَلَةَ الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيْهِ بَعْدَ مَنْعِهِ عَنِ الْمُرُورِ مَرَّتَيْنِ، لَا فِي الِابْتِدَاءِ إِذَا أَرَادَ الْمُرُورَ بَيْنَ يَدَيْهِ
حدیث نمبر: 818
نَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يُصَلِّي ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الَّذِي بَعْدَهُ فِي الْبَابِ الثَّانِي ، غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ فِيهِ : وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُهُ فَأَبَى أَنْ يَنْتَهِيَ . قَالَ : وَمَرْوَانُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْمَدِينَةِ ، فَشَكَا إِلَيْهِ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ مَرْوَانُ لأَبِي سَعِيدٍ ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ شَيْءٌ ، وَهُوَ يُصَلِّي ، فَلْيَمْنَعْهُ مَرَّتَيْنِ ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب ابوصالح بیان کرتے ہیں کہ اس اثنا میں کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ جمعہ والے دن نماز پڑھ رہے تھے ۔ کہ پھر سلیمان بن مغیرہ کی حدیث جیسی حدیث بیان کی جو دوسرے باب میں آگے آرہی ہے ۔ مگر اس میں یہ اضافہ ہے کہ بیشک میں نے اُسے روکنے کی کوشش کی تھی مگر اُس نے رُکنے سے انکار کر دیا ۔ وہ کہتے ہیں کہ ان دنوں مروان مدینہ منوّرہ کا گورنر تھا ، لہٰذا اُس نے گورنر سے شکایت کر دی ۔ پھر مروان نے ( ملاقات ہونے پر ) اس بات کا تذکرہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے کیا تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ۔ ” جب تم میں سے کسی شخص کے آگے سے کوئی چیز گزرے جبکہ وہ نماز پڑھ رہا ہو تو اُسے اُس چیز کو دوبار منع کرنا چاہیے ، پھر اگر وہ رُکنے سے انکار کردے ( اور زبردستی گزرنے کی کوشش کرے ) تو اُسے اُس کے ساتھ لڑائی کرنی چاہیے ، بلاشبہ وہ شیطان ہے ۔ “