حدیث نمبر: Q813
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْوُقُوفَ مُدَّةً طَوِيلَةً انْتِظَارَ سَلَامِ الْمُصَلِّي خَيْرٌ مِنَ الْمُرُورِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نمازی کے آگے سے گزرنے کی بجائے نمازی کے سلام پھیرنے کے انتظار میں طویل مدت کھڑے رہنا بہتر ہے ۔
حدیث نمبر: 813
نَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، ثنا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَرْسَلَنِي زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ ، أَسْأَلُهُ عَنِ الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي ، مَاذَا عَلَيْهِ ؟ قَالَ : " لَوْ كَانَ أَنْ يَقُومَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب بسر بن سعید بیان کرتے ہیں کہ زید بن خالد نے مجھے سیدنا ابوجہیم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں یہ پُوچھنے کے لئے بھیجا کہ نمازی کے آگے گزرنے سے گزرنے والے شخص کو کیا گناہ ہوتا ہے ؟ تو اُنہوں نے فرمایا کہ اگر وہ چالیس ( سال یا دن ) تک کھڑا رہے تو یہ اُس کے لئے نمازی کے آگے گزرنے سے بہتر ہے ۔
حدیث نمبر: 814
نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، نَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَنِي عَمِّي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ناهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا فِي الْمَشْيِ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ مُعْتَرِضًا ، وَهُوَ يُنَاجِي رَبَّهُ ، كَانَ أَنْ يَقِفَ فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ مِائَةَ عَامٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَخْطُوَ " هَذَا حَدِيثُ ابْنِ مَنِيعٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
امام صاحب اپنے دو اساتذہ کرام جناب احمد بن منیع اور محمد بن رافع کی سند سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول االلہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم میں سے کسی شخص کو اپنے بھائی کے آگے سے چوڑائی کے رخ میں گزرنے پر گناہ معلوم ہو جائے ، جبکہ وہ اپنے رب سے مناجات کررہا ہو ، تو اُسے ایک قدم بھی اُٹھانے سے سو سال تک اسی جگہ کھڑے رہنا زیادہ بہتر لگے ۔ “ یہ ابن منیع کی روایت ہے ۔