کتب حدیث › صحيح ابن خزيمه › ابواب ❮کتاب:صحيح البخاريصحيح مسلمسنن ابي داودسنن ابن ماجهسنن نسائيسنن ترمذيصحيح ابن خزيمهصحیح ابن حبانمسند احمدموطا امام مالك رواية يحييٰموطا امام مالك رواية ابن القاسمسنن دارميسنن الدارقطنيسنن سعید بن منصورمصنف ابن ابي شيبهالمنتقى ابن الجارودالادب المفردصحيح الادب المفردمشكوة المصابيحبلوغ المراماللؤلؤ والمرجانشمائل ترمذيصحيفه همام بن منبهسلسله احاديث صحيحهمجموعه ضعيف احاديثمختصر صحيح بخاريمختصر صحيح مسلممختصر حصن المسلممسند الإمام الشافعيمسند الحميديمسند اسحاق بن راهويهمسند عبدالله بن مباركمسند الشهابمسند عبدالرحمن بن عوفمسند عبدالله بن عمرمسند عمر بن عبد العزيزالفتح الربانیمعجم صغير للطبرانيحدیث نمبر:جائیں❯ فہرستِ ابواب — صحيح ابن خزيمه باب: سُترہ کی طرف ( منہ کر کے ) نماز پڑھنے کا بیان حدیث 798–799 باب: سترے کے بغیر نماز پڑھنا منع ہے - حدیث 800–800 باب: نماز میں اونٹ کو سُترہ بنانے کا بیان- حدیث 801–802 باب: نمازی جس چیز کو اپنی نماز کے لیے سُترہ بنائے ، اس سُترے کے قریب ہونے کے حُکم کا بیان ۔ حدیث 803–803 باب: جب نمازی دیوار کو سُترہ بناکر نماز پڑھ رہا ہو تو جائے نماز کے قریب کھڑے ہونے کا بیان۔ حدیث 804–804 باب: ایک مجمل غیر مفسر روایت کے ساتھ سُترے کی اس مقدار کا بیان جس کے ساتھ نماز میں سُترہ بنانا کافی ہوجائے ۔ حدیث 805–807 باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کجاوے کی پچھلی لکڑی کی لمبائی کے برابر سُترہ بنانے کا حُکم دیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی لمبائی اور چوڑائی دونوں کے برابر سُترہ بنانے کا حُکم نہیں دیا ۔ حدیث 808–810 باب: جب نمازی کو اپنے سامنے سُترے کے لئے کوئی چیز گاڑںے کے لئے نہ ملے تو وہ لکیر لگا کر سُترہ بنالے ۔ حدیث 811–812 (288) بَابُ التَّغْلِيظِ فِي الْمُرُورِ بَيْنَ الْمُصَلِّي باب: نمازی کے آگے سے گزرنے پر شدید وعید کا بیان حدیث 813–814 (289) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ التَّغْلِيظَ فِي الْمُرُورِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي، باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نمازی کے آگے سے گزرنے پر شدید وعید حدیث 815–815 (290) بَابُ أَمْرِ الْمُصَلِّي بِالدَّرْءِ عَنْ نَفْسِهِ الْمَارَّ بَيْنَ يَدَيْهِ، باب: نمازی کو اپنے آگے سے گزرنے والے کو اپنے سے دور کرنے کے حُکم کا بیان حدیث 816–816 (291) بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الْمُفَسِّرِ لِلَّفْظَةِ الْمُجْمَلَةِ الَّتِي ذَكَرْتُهَا، باب: اس مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان جو میں نے بیان کی ہے ۔ حدیث 817–817 (292) بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الْمُفَسِّرِ لِلَّفْظَةِ الْمُجْمَلَةِ الَّتِي ذَكَرْتُهَا باب: اس مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان جو میں نے بیان کی ہے ۔ حدیث 818–818 باب: نمازی کو اپنے آگے سے گزرنے والے کو ابتداء میں سینے میں دھکا دے کر روکنے کے جواز کا بیان ۔ حدیث 819–819 (294) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ: فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کہ ” بیشک وہ شیطان ہے “ سے حدیث 820–820 باب: نمازی کے آگے عورت سوئی ہوئی ہو یا لیٹی ہو تو نماز پڑھنے کی رخصت کا بیان ۔ حدیث 821–822 باب: جناب محمد بن کعب کی اس حدیث ” سوئے ہوئے شخص اور گفتگو کرنے والوں کے پیچھے نماز مت پڑھو“ کے ضعیف ہونے کا بیان اور اس روایت کا کسی بھی قابل حجت راوی نے بیان نہیں کیا ۔ حدیث 823–823 باب: اس بات کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وتر ادا کرتے وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس لیے بیدار کردیتے تھے تاکہ وہ بھی وتر ادا کرلیں ، ( یہ مقصد نہیں تھا کہ ) اُن کے سامنے لیٹے ہونے کی صورت میں وتر ادا کرنا مکروہ تھا ۔ حدیث 824–824 باب: عورت کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان ۔ حدیث 825–826 باب: نمازی کو اپنے آگے سے گزرنے والی بکری کو روکنے کے جواز کا بیان ۔ حدیث 827–827 باب: نمازی کے آگے سے بلّی کے گزرنے کا بیان ، اگر اس بارے میں مروی روایت مرفوعاً صحیح ہو کیونکہ اس کے مرفوع ہونے میں قلب ہوا ہے ۔ حدیث 828–829 (301) بَابُ التَّغْلِيظِ فِي مُرُورِ الْحِمَارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْكَلْبِ الْأَسْوَدِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي بِذِكْرِ أَخْبَارٍ مُجْمَلَةٍ، باب: مجمل احادیث کے ساتھ نمازی کے آگے سے گدھے ، عورت اور سیاہ کُتّے کے گزرنے پر وعید کا بیان ، حدیث 830–830 (302) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ هَذَا الْخَبَرَ فِي ذِكْرِ الْمَرْأَةِ لَيْسَ مُضَادَّ باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ یہ حدیث جس میں عورت کے نمازی کے سامنے سے گزرنے سے نماز کے ٹوٹ جانے کا ذکر ہے ۔ حدیث 830–831 (303) بَابُ ذِكْرِ الْبَيَانِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ بِالْمَرْأَةِ الَّتِي قَرَنَهَا إِلَى الْكَلْبِ الْأَسْوَدِ وَالْحِمَارِ وَأَعْلَمَ أَنَّهَا تَقْطَعُ الصَّلَاةَ، الْحَائِضَ دُونَ الطَّاهِرِ، وَهَذَا مِنْ أَلْفَاظِ الْمُفَسِّرِ باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ وہ عورت جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ کُتّے اور گدھے کے ساتھ ملا کر بیان کیا ہے کہ ان کے نمازی کے آگے سے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد حائضہ عورت ہے پاک و طاہر عورت مراد نہیں ہے۔ حدیث 832–832 (304) بَابُ ذِكْرِ خَبَرٍ رُوِيَ فِي مُرُورِ الْحِمَارِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي، باب: نمازی کے آگے سے گدھے کے گزرنے کے بارے میں مروی حدیث کا بیان ، حدیث 833–843 باب: نماز کے ناپسندیدہ ہونے کا بیان جبکہ نمازی کے سامنے تصاویر والے کپڑے ہوں ۔ حدیث 844–844 اس باب کی تمام احادیث ❮ پچھلا باب اگلا باب ❯