باب: سُترہ کی طرف ( منہ کر کے ) نماز پڑھنے کا بیان
حدیث 798–799
باب: سترے کے بغیر نماز پڑھنا منع ہے -
حدیث 800–800
باب: نماز میں اونٹ کو سُترہ بنانے کا بیان-
حدیث 801–802
باب: نمازی جس چیز کو اپنی نماز کے لیے سُترہ بنائے ، اس سُترے کے قریب ہونے کے حُکم کا بیان ۔
حدیث 803–803
باب: جب نمازی دیوار کو سُترہ بناکر نماز پڑھ رہا ہو تو جائے نماز کے قریب کھڑے ہونے کا بیان۔
حدیث 804–804
باب: ایک مجمل غیر مفسر روایت کے ساتھ سُترے کی اس مقدار کا بیان جس کے ساتھ نماز میں سُترہ بنانا کافی ہوجائے ۔
حدیث 805–807
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کجاوے کی پچھلی لکڑی کی لمبائی کے برابر سُترہ بنانے کا حُکم دیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی لمبائی اور چوڑائی دونوں کے برابر سُترہ بنانے کا حُکم نہیں دیا ۔
حدیث 808–810
باب: جب نمازی کو اپنے سامنے سُترے کے لئے کوئی چیز گاڑںے کے لئے نہ ملے تو وہ لکیر لگا کر سُترہ بنالے ۔
حدیث 811–812
باب: نمازی کے آگے سے گزرنے پر شدید وعید کا بیان
حدیث 813–814
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نمازی کے آگے سے گزرنے پر شدید وعید
حدیث 815–815
باب: نمازی کو اپنے آگے سے گزرنے والے کو اپنے سے دور کرنے کے حُکم کا بیان
حدیث 816–816
باب: اس مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان جو میں نے بیان کی ہے ۔
حدیث 817–817
حدیث 818–818
باب: نمازی کو اپنے آگے سے گزرنے والے کو ابتداء میں سینے میں دھکا دے کر روکنے کے جواز کا بیان ۔
حدیث 819–819
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کہ ” بیشک وہ شیطان ہے “ سے
حدیث 820–820
باب: نمازی کے آگے عورت سوئی ہوئی ہو یا لیٹی ہو تو نماز پڑھنے کی رخصت کا بیان ۔
حدیث 821–822
باب: جناب محمد بن کعب کی اس حدیث ” سوئے ہوئے شخص اور گفتگو کرنے والوں کے پیچھے نماز مت پڑھو“ کے ضعیف ہونے کا بیان اور اس روایت کا کسی بھی قابل حجت راوی نے بیان نہیں کیا ۔
حدیث 823–823
باب: اس بات کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وتر ادا کرتے وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس لیے بیدار کردیتے تھے تاکہ وہ بھی وتر ادا کرلیں ، ( یہ مقصد نہیں تھا کہ ) اُن کے سامنے لیٹے ہونے کی صورت میں وتر ادا کرنا مکروہ تھا ۔
حدیث 824–824
باب: عورت کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان ۔
حدیث 825–826
باب: نمازی کو اپنے آگے سے گزرنے والی بکری کو روکنے کے جواز کا بیان ۔
حدیث 827–827
باب: نمازی کے آگے سے بلّی کے گزرنے کا بیان ، اگر اس بارے میں مروی روایت مرفوعاً صحیح ہو کیونکہ اس کے مرفوع ہونے میں قلب ہوا ہے ۔
حدیث 828–829
باب: مجمل احادیث کے ساتھ نمازی کے آگے سے گدھے ، عورت اور سیاہ کُتّے کے گزرنے پر وعید کا بیان ،
حدیث 830–830
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ یہ حدیث جس میں عورت کے نمازی کے سامنے سے گزرنے سے نماز کے ٹوٹ جانے کا ذکر ہے ۔
حدیث 830–831
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ وہ عورت جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ کُتّے اور گدھے کے ساتھ ملا کر بیان کیا ہے کہ ان کے نمازی کے آگے سے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد حائضہ عورت ہے پاک و طاہر عورت مراد نہیں ہے۔
حدیث 832–832
باب: نمازی کے آگے سے گدھے کے گزرنے کے بارے میں مروی حدیث کا بیان ،
حدیث 833–843
باب: نماز کے ناپسندیدہ ہونے کا بیان جبکہ نمازی کے سامنے تصاویر والے کپڑے ہوں ۔
حدیث 844–844
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔