کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: تشہد پڑھنے کے بعد اور سلام پھیرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ سے جنّت مانگنے اور جھنّم کی آگ سے اللہ کی پناہ طلب کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 725
نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ : " مَا تَقُولُ فِي الصَّلاةِ ؟ " ، قَالَ : أَتَشَهَّدُ ، ثُمَّ أَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ ، أَمَا وَاللَّهِ مَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَوْلَهُمَا نُدَنْدِنُ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : الدَّنْدَنَةُ الْكَلامُ الَّذِي لا يُفْهَمُ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے پوچھا: ” تم نماز میں کیا پڑھتے ہو ؟ “ اُس نے عرض کی کہ میں تشہد پڑھتا ہوں ، پھر یہ دعا مانگتا ہوں ، « اللّهُـمَّ إِنِّـي أَسْأَلُـكَ الجَـنَّةَ وأََعوذُ بِـكَ مِـنَ الـنّار » ” اے اللہ میں تجھ سے جنّت کا سوال کرتا ہوں اور جہنّم کی آگ سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ “ ( پھر اُس آدمی نے کہا ) ﷲ کی قسم ، مجھے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح اور نہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی طرح گُنگُنانا آتا ہے ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح جامع دعائیں نہیں آتیں ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم بھی انہیں دو چیزوں کے ارد گرد گنگناتے ہیں ( یعنی ہم بھی اللہ تعالیٰ سے یہی دو دعائیں مانگتے ہیں ) امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دندنہ سے مراد وہی کلام سے جو سمجھی نہ جا سکے ۔