کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: تشہد کے بعد اور سلام پھیرنے سے پہلے استغفار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 723
نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْمَاجِشُونُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ آخِرِ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشہد اور سلام کے درمیان آخری دعاؤں میں سے ایک یہ ہے « اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ » ” اے اللہ میرے اگلے اور پچھلے گناہ ، پوشیدہ اور اعلانیہ گناہ ، اور جو میں نے ( ‏‏‏‏اپنی جان پر ) ظلم و زیادتی کی اور وہ خطائیں جنہیں تُو مجھ سے زیادہ جانتا ہے ، معاف فرما دے ، تُو ہی آگے بڑھانے والا ہے اور تُو ہی پیچھے کرنے والا ہے ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 723
تخریج حدیث صحيح مسلم
حدیث نمبر: 724
نا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَنَّ مِحْجَنَ بْنَ الأَدْرَعِ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَدْ قَضَى صَلاتَهُ وَهُوَ يَتَشَهَّدُ ، وَيَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاللَّهِ الْوَاحِدِ الصَّمَدِ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ، أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ غُفِرَ لَهُ ، غُفِرَ لَهُ " ، ثَلاثَ مَرَّاتٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس نے اپنی نماز مکمّل کرلی تھی اور وہ تشہد میں ان کلمات کے ساتھ دعا مانگ رہا تھا ، « اللّهُـمَّ إِنِّـي أَسْأَلُـكَ يا اللهُ بِأَنَّـكَ الواحِـدُ الأَحَـد الصَّـمَدُ الَّـذي لَـمْ يَلِـدْ وَلَمْ يولَدْ، وَلَمْ يَكـنْ لَهُ كُـفُواً أَحَـد ، أَنْ تَغْـفِرْ لي ذُنـوبي إِنَّـكَ أَنْـتَ الغَفـورُ الرَّحِّـيم » ۔ ” اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اُس اللہ کے واسطے سے جو اکیلا ہے ، بے نیاز و بے پروا ہے ، نہ وہ کسی کا باپ ہے اور نہ کوئی اُس کا بیٹا اور نہ ہی اُس کو کوئی ہم پلہ و ہمسر ہے ، کہ تُو میرے گناہ معاف فرما دے ، بیشک تُو نہایت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے ۔ “ ( یہ دعا سن کر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا : ” بیشک اسے معاف کر دیا گیا ، بیشک اسے بخش دیا گیا ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 724
تخریج حدیث اسناده صحيح