حدیث نمبر: 671
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي الْفِرَاشِ ، فَجَعَلْتُ أَطْلُبُهُ بِيَدِي ، فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى بَاطِنِ قَدَمَيْهِ وَهُمَا مُنْتَصِبَتَانِ فَسَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْكَ ، لا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ " . هَذَا حَدِيثُ الدَّوْرَقِيِّ ، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ : عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَقَالَ : " لا أُحْصِي مَدْحَكَ وَلا ثَنَاءً عَلَيْكَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر موجود نہ پایا تو میں نے اپنے ہاتھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنا شروع کر دیا ۔ میرا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلوؤں پر پڑا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں قدم کھڑے تھے ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا ، « اللَّهُمَّ إني أَعُوذ بِرِضَاك من سَخَطِك، وبِمُعَافَاتِكَ من عُقُوبَتِكَ، وأعُوذ بِك مِنْك، لا أُحْصِي ثَناءً عليك أنت كما أَثْنَيْتَ على نفسك » ” اے اللہ، میں تیرے غصّے اور ناراضگی سے تیری خوشنودی کی پناہ میں آتا ہوں ، میں تیرے عذاب سے تیری بخشش و مغفرت کی پناہ میں آتا ہوں ، میں تجھ سے تیری پناہ میں آتا ہوں ، میں تیری ثناء کا حق ادا کرنے سے عاجز ہوں ۔ تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے اپنی ثنا بیان فرمائی ہے ۔ “ یہ جنات دورقی کی حدیث ہے ۔ حضرت علی بن شعیب نے عبیداللہ سے روایت کرتے ہوئے یہ الفاظ بیان کیے ” میں تیری حمدوثناء کو شمار کرنے سے قاصر ہوں ۔ “
حدیث نمبر: 672
نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أنا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ ، دِقَّهُ وَجُلَّهُ ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ ، وَعَلانِيَتَهُ وَسِرَّهُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سجدے میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے ، « اللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ ذَنْبِيْ كُلَّهُ دِقَّهُ وَجِلَّهُ وَاَوَّلَهُ وَاٰخِرَهُ وَعَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ » ” اے اللہ ، میرے چھوٹے اور بڑے ، اگلے اور پچھلے ، علانیہ اور پوشیدہ ، تمام گناہ معاف فر مادے ۔ “
حدیث نمبر: 673
نا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : ثُمَّ إِذَا سَجَدَ ، قَالَ فِي سُجُودِهِ : " اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ ، وَأَنْتَ رَبِّي ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلْقَهُ ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو « اللهُ أَكْبَرُ » کہتے ۔ پھر بقیہ حدیث بیان کی اور فرمایا کہ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اپنے سجدے میں یہ دعا مانگی « اَللّٰهُمَّ لَكَ سَجَدْتُّ وَبِكَ امَنْتُ وَلَكَ اَسْلَمْتُ، سَجَدَوَجْهِيْ لِلَّذِيْ خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخَالِقِيْنَ » ” اے اللہ ، میں نے تیرے لئے سجدہ کیا اور تجھ پر ایمان لایا اور تیرے ہی لئے مطیع و فرمانبردار ہوا اور تُو ہی میرا پروردگار ہے ، میرے چہرے نے اس ذات کے لئے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا فرمایا ، اس کے کان اور آنکھیں بنائیں ، بہت بابرکت ہے اللہ ، بہترین صورت میں پیدا کرنے والا ۔ “