کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: سجدوں کو مکمل کرنے اور اس میں کمی کرنے پر سختی کا بیان ،
حدیث نمبر: Q663
وَتَسْمِيَةِ الْمُنْتَقِصِ رُكُوعَهُ وَسُجُودَهُ سَارِقًا، أَوْ هُوَ سَارِقٌ مِنْ صَلَاتِهِ‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اپنے رکوع و سجود میں کمی کرنے والے کو چور کانام دینے یا وہ اپنی نماز کا چور ہے کا بیان
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: Q663
حدیث نمبر: 663
نا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ ، نا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْوَأُ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ صَلاتَهُ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يَسْرِقُ صَلاتَهُ ؟ قَالَ : " لا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلا سُجُودَهَا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں میں بد ترین چور وہ ہے جو اپنی نماز چوری کرتا ہے ۔ “ صاحبہ کرام نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ، وہ اپنی نماز میں کیسے چوری کرتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اُس کا رُکوع اور سجود پورا نہیں ہوتا ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 663
تخریج حدیث صحيح
حدیث نمبر: 664
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ، فَبَصُرَ بِرَجُلٍ يُصَلِّي ، فَقَالَ : " يَا فُلانُ اتَّقِ اللَّهَ ، أَحْسِنْ صَلاتَكَ ، أَتَرَوْنَ أَنِّي لا أَرَاكُمْ ، إِنِّي لأَرَى مِنْ خَلْفِي كَمَا أَرَى مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ ، أَحْسِنُوا صَلاتَكُمْ وَأَتِمُّوا رُكُوعَكُمْ وَسُجُودَكُمْ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے یں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی ، تو ایک شخص کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے فلان ، اللہ سے ڈرو ، اپنی نمازکو عمدہ طریقے سے ادا کرو ، تمہارا کیا خیال ہے کہ میں تم کو دیکھتا نہیں ہوں ، بیشک میں ( تمہیں ) اپنے پیچھے سے بھی ایسے ہی دیکھتا ہوں جیسے میں اپنے سامنے دیکھتا ہوں ۔ اپنی نمازوں کو بہترین طریقے سے ادا کرو اور اپنے رُکوع و سجود کو مکمّل کیا کرو ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 664
تخریج حدیث صحيح مسلم
حدیث نمبر: 665
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَةُ بْنُ الأَحْنَفِ الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلامٍ الأَسْوَدُ ، نا أَبُو صَالِحٍ الأَشْعَرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ ، ثُمَّ جَلَسَ فِي طَائِفَةٍ مِنْهُمْ ، فَدَخَلَ رَجُلٌ ، فَقَامَ يُصَلِّي ، فَجَعَلَ يَرْكَعُ وَيَنْقُرُ فِي سُجُودِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَرَوْنَ هَذَا ، مَنْ مَاتَ عَلَى هَذَا ، مَاتَ عَلَى غَيْرِ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ ، يَنْقُرُ صَلاتَهُ كَمَا يَنْقُرُ الْغُرَابُ الدَّمَ ، إِنَّمَا مَثَلُ الَّذِي يَرْكَعُ وَيَنْقُرُ فِي سُجُودِهِ ، كَالْجَائِعِ لا يَأْكُلُ إِلا التَّمْرَةَ وَالتَّمْرَتَيْنِ ، فَمَاذَا تُغْنِيَانِ عَنْهُ ، فَأَسْبِغُوا الْوُضُوءَ ، وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ، أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ " . قَالَ أَبُو صَالِحٍ : فَقُلْتُ لأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَشْعَرِيِّ : مَنْ حَدَّثَكَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ؟ فَقَالَ : أُمَرَاءُ الأَجْنَادِ : عَمْرُو ابْنُ الْعَاصِ ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، وَشُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ ، كُلُّ هَؤُلاءِ سَمِعُوهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
حضرت ابوعبداللہ الاشعری بیان کرتے ہیں کہ ( ایک دن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی پھر اُن کی ایک جماعت میں بیٹھ گئے ۔ اسی اثناء میں ایک شخص ( مسجد میں ) داخل ہوا تو اُس نے نماز پڑھی ، تو اُس نے رُکوع کرنا شروع کیا اور اپنے سجدوں میں ٹھونگیں مارنے لگا ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم اُس شخص کو دیکھ رہے ہو ، جو شخص اس حالت میں مرگیا تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ملّت و دین پر نہیں مرے گا ۔ یہ شخص نماز میں اس طرح ٹھونگیں مار رہا ہے جیسے کوّا خون کو ٹھونگیں مارتا ہے ۔ بلاشبہ اُس شخص کی مثال جو رُکوع کرتا ہے اور اپنے سجدوں میں ٹھونگیں مارتا ہے ، اس بُھوکے شخص کی سی ہے جو ایک یا دو کھجوریں کھاتا ہے تو بھلا وہ اسے کیا فا ئدہ دیں گی ؟ اس کے لئے مکمّل وضو کیا کرو ( خشک رہ جانے والی ) ایڑیوں کے لئے آگ کا عذاب ہے ۔ رُکوع اور سجود کو مکمّل کیا کرو ۔ ‏‏‏‏جناب ابوصالح کہتے ہیں کہ میں نے ابوعبداللہ الاشعری سے پوچھا کہ آپ کو یہ حدیث کس نے بیان کی ہے ؟ اُنہوں نے فرمایا ( مجھے یہ حدیث ) سپہ سالاروں سیدنا عمرو بن العاص ، خالد بن الولید ، یزید بن ابی سفیان اور شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہم نے بیان کی ہے ۔ ان سب نے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 665
تخریج حدیث اسناده حسن