حدیث نمبر: 654
نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْكُوفِيُّ ، سَكَنَ الْفُسْطَاطَ ، قَالا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ : قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجِ النَّبِيِّ : فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مَعِي عَلَى فِرَاشِي ، فَوَجَدْتُهُ سَاجِدًا رَاصًّا عَقِبَيْهِ ، مُسْتَقْبِلا بِأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ الْقِبْلَةَ ، فَسَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : " أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَبِعَفْوِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ ، وَبِكَ مِنْكَ ، أُثْنِيَ عَلَيْكَ لا أَبْلُغُ كُلَّ مَا فِيكَ " فَلَمَّا انْصَرَفَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، أَخَذَكِ شَيْطَانُكِ ؟ " ، فَقَالَتْ : أَمَا لَكَ شَيْطَانٌ ؟ قَالَ : " مَا مِنْ آدَمَيٍّ إِلا لَهُ شَيْطَانٌ " ، فَقُلْتُ : وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَأَنَا ، وَلَكِنِّي دَعَوْتُ اللَّهَ عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ( ایک رات ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موجود نہ پایا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ میرے بستر پر تشریف فرما تھے ۔ ( میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کیا تو ) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدے کی حالت میں پایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایڑیاں خوب ملائی ہوئی تھیں اور انگلیوں کے کناروں کو قبلہ رُخ کیا ہوا تھا ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگ رہے تھے : « أَعُوْذُ بِرِضَاكَ مِنْسَخَطِكَ، وَبِعَفْوِكَ مِنْ عُقُوْبَتِكَ، وبِكَ مِنْكَ، أَثْنٰي عَلَيْكَ، لَا أَبْلُغُ كُلَّ مَا فِيْكَ » ” اے اللہ، میں تیرے غصّے اور ناراضگی سے تیری خوشنودی کی پناہ میں آتا ہوں ، میں تیرے عذاب سے تیری بخشش کی پناہ میں آتا ہوں ، میں تجھ سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں ۔ میں تیری تمام خوبیوں کی حمدوثنا کر نے سے قاصر ہوں۔ “ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا : ” اے عائشہ تجھے تیرے شیطان نے پریشان کر دیا تھا۔ “ تو انہوں نے دریافت کیا، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شیطان نہیں ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر انسان کا ایک شیطان ہے ۔ “ میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی شیطان ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں میرا بھی ہے لیکن میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو وہ اطاعت گزار اور فرماں بردار ہو گیا ہے ۔ “