کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: جس مصیبت کی وجہ سے قنوت کی جا رہی تھی اس کے ختم ہو جانے پر قنوت ترک کر دینے کا بیان
حدیث نمبر: Q621
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا تَرَكَ الْقُنُوتَ بَعْدَ شَهْرٍ لِزَوَالِ تِلْكَ الْحَادِثَةِ الَّتِي كَانَ لَهَا يَقْنُتُ، لَا نَسْخًا لِلْقُنُوتِ، وَلَا كَمَا تَوَهَّمَ مَنْ قَالَ إِنَّهُ لَا يَقْنُتُ أَكْثَرَ مِنْ شَهْرٍ‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم ﷺ نے جس مصیبت کے نازل ہونے کی وجہ سے قنوت کر رہے تھے اس کے ختم ہونے پر ایک ماہ کے بعد قنوت چھوڑ دی تھی۔ قنوت کے منسوخ ہونے کی وجہ سے نہیں چھوڑی تھی۔ اور نہ اس لیے چھوڑی تھی جیساکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ایک ماہ سے زائد قنوت جائز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: Q621
حدیث نمبر: 621
نا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ ، نا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ فِي صَلاةٍ شَهْرًا ، يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ : " اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينِ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَدْعُ لَهُمْ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " أَوَ مَا تَرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا ؟ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک نماز میں قنوت نازلہ پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں یہ فرماتے، «اللهمَّ أَنْجِ عَيَّاش بن أبي ربيعة، اللهمَّ أَنْجِ سَلَمَة بنَ هشام، اللهم أَنْجِ الوليد بن الوليد، اللهم أَنْجِ المستضعفين من المؤمنين، اللهمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَك على مُضَر، اللهمَّ اجعلها سنين كسِنِي يوسف » ” اے اللہ، ولید بن الولید کو نجات عطا فرما ، اے اللہ ، سلمہ بن ہشام کو رہائی نصیب فرما ، اے اﷲ ، عیاش بن ابی ربیعہ کو آزادی دیدے ، اے ﷲ کمزور مومنوں کو نجات عطا فرما دے ، اے اﷲ ، مضر پر اپنا سخت عذاب نازل فرما ، اے اللہ ، ان پر سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے کے قحط کی طرح کا قحط مسلط کر دے ۔ “ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روز صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا نہ کی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد دلایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم نے اُنہیں دیکھا نہیں کہ وہ ( ‏‏‏‏آزادی پانے کے بعد ) آچکے ہیں ( ‏لہٰذا اب قنوت کی ضرورت باقی نہیں رہی ) ‏‏‏‏۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 621
تخریج حدیث صحيح مسلم