کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: رکوع سے سراٹھانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنے کی فضیلت
حدیث نمبر: Q614
مَعَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُرِدْ بِقَوْلِهِ: إِذَا قَالَ الْإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ أَنَّ الْإِمَامَ لَا يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَزِيدَ بَعْدَ رَفْعِ الرَّأْسِ مِنَ الرُّكُوعِ عَلَى قَوْلِهِ: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ.
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اس دلیل کے ساتھ کہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان: ”جب امام سَمِعَ اللهُ لِمَن حمِده کہے تو تم ربَّنا لك الحمدُ کہو“ اس سے آپ ﷺ کی مراد یہ نہیں ہے کہ امام رکوع سے سر اٹھانے کے بعد :ربَّنا لك الحمدُ سے زائد کچھ نہیں پڑھ سکتا۔
حدیث نمبر: 614
نا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، أنا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ يَحْيَى الزُّرَقِيّ حَدَّثَهُ . ح وَحَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُجْمِرِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ . ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أنا رَوْحُ بْنُ عِبَادَةَ ، نا مَالِكٌ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ يَحْيَى الزُّرَقِيَّ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنَّا يَوْمًا نُصَلِّي وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ، فَقَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ : رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ الَّذِي تَكَلَّمَ آنِفًا ؟ " ، قَالَ رَجُلٌ : أَنَا ، فَقَالُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے ۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رُکوع سے سر اُٹھایا تو کہا: « سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ » ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ایک شخص نے یہ دعا پڑھی : « رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ » ” اے ہمارے رب تیرے ہی لئے تمام تعریف ہے ، بہت زیادہ ، پاکیزہ اور بابرکت تعریفیں ( تیرے لئے ہیں ) “ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا تو پوچھا : ” ابھی ابھی کس شخص نے گفتگو کی ہے ؟ “اُس شخص نے عرض کی کہ میں نے کی ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک میں نے تیس سے زائد فرشتوں کو جلدی کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ کون ان کلمات کو پہلے لکھے ۔ “