حدیث نمبر: 599
نا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رہا رُکوع تو اس میں رب تعالیٰ کی عظمت بیان کرو ۔ “
حدیث نمبر: 600
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ ، نا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمِّي إِيَاسَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ لَمَّا نَزَلَتْ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ سورة الواقعة آية 74 ، قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ( یہ آیت ) « فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ » [ سورة الواقعة ] ( اپنے عظمت والے رب کے نام کی تسبیح بیان کرو ) نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حُکم دیا کہ ” تم اسے اپنے رُکوع میں پڑھا کرو“
حدیث نمبر: 601
نا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، بِمِثْلِهِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
امام صاحب نے اپنے استاد محترم جناب محمد بن عیسیٰ کی سند سے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا کی طرح روایت بیان کی ۔
حدیث نمبر: 602
نا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَشَفَ السِّتْرَ ، فَرَأَى النَّاسَ قِيَامًا وَرَاءَ أَبِي بَكْرٍ يُصَلُّونَ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ، أَنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ لِنَفْسِهِ أَوْ تُرَى لَهُ ، وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا ، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَأَكْثَرُوا فِيهِ الدُّعَاءَ ، فَإِنَّهُ قَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ " . قَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى : قَالَ أَبُو عَاصِمٍ مَرَّةً : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ السِّتْرَ وَالنَّاسُ قِيَامٌ يُصَلُّونَ وَرَاءَ أَبِي بَكْرٍ " ، وَخَبَرُ إِسْمَاعِيلَ وَابْنِ عُيَيْنَةَ لَيْسَ هُوَ عَلَى هَذَا التَّمَامِ ، وَأَنَا اخْتَصَرْتُهُ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنے حجرہ مبارک کا ) پردہ ہٹایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ، کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ، کیا میں نے ( دین ) پہنچا دیا ہے ۔ بیشک نبوت کی خوشخبریوں میں سے صرف نیک خواب ہی باقی رہ گئے جنہیں کوئی مسلمان اپنے لئے دیکھتا ہے یا اُسے ( دوسروں کے متعلق خواب ) دکھائے جاتے ہیں ۔ اور بلاشبہ مجھے رُکوع اور سجدے کی حال میں قراءت کرنے سے منع کیا گیا ہے ، لہٰذا رُکوع میں رب تعالیٰ کی عظمت بیان کرو جبکہ سجدوں میں بکثرت دعا مانگو کیونکہ یہ اس لائق ہے کہ تمہاری دعائیں قبول کی جائیں ۔ جناب ابوعاصم نے ایک مرتبہ یہ الفاظ بیان کیے ” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ اُٹھایا جبکہ صحابہ کرام سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے تھے ۔ اسماعیل اور ابن عیینہ کی حدیث صرف انہی الفاظ پر مکمّل نہیں ہوتی ، میں نے اسے مختصر بیان کیا ہے ۔