کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کا بیان کہ نبی اکرام صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے کے حکم کے بعد تطبیق جائز نہیں ہے
حدیث نمبر: Q596
وَأَنَّ التَّطْبِيقَ مَنْهِيٌّ عَنْهُ لَا أَنَّ هَذَا مِنْ فِعْلِ الْمُبَاحِ، فَيَجُوزُ التَّطْبِيقُ، وَوَضْعُ الْيَدَيْنِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ جَمِيعًا كَمَا ذَكَرْنَا أَخْبَارَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَوَاتِ، وَاخْتِلَافَهُمْ فِي السُّوَرِ الَّتِي كَانَ يَقْرَأُ فِيهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، وَكَاخْتِلَافِهِمْ فِي عَدَدِ غَسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْضَاءَ الْوُضُوءِ، وَكُلُّ ذَلِكَ مُبَاحٌ، فَأَمَّا التَّطْبِيقُ فِي الرُّكُوعِ فَمَنْسُوخٌ مَنْهِيٌّ عَنْهُ، وَالسُّنَّةُ وَضْعُ الْيَدَيْنِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور بلاشبہ تطبیق کا عمل ممنوع ہےـ یہ جائز نہیں ہے کہ تطبیق اور گھٹنوں پر ہاتھ رکھنا دونوں عمل ہی درست ہوں جیسا کہ ہم نے نمازوں میں نبی اکرم ﷺ کی قراءت کے متعلق(مختلف)احادیث بیان کی ہیں-اور ان سورتوں کے بارے میں صحابہ کرام کا اختلاف ذکر کیا ہے جو نبی کریم ﷺ نماز میں پڑھا کرتے تھے- یا جیساکہ نبی کریم ﷺ کے اعضائے وضو کے دھونے کی تعداد کے بارے میں صحابہ کرام کا اختلاف ذکر کیا ہے-یہ سب طریقے جائز ہیں لیکن رکوع میں تطبیق کا عمل منسوخ اور منع ہوچکا ہے-اور سنت طریقہ دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنا ہےـ
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: Q596
حدیث نمبر: 596
نا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ وَهُوَ إِسْمَاعِيلُ . ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا وَكِيعٌ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، قَالا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : " كُنْتُ إِذَا رَكَعْتُ وَضَعْتُ يَدَيَّ بَيْنَ رُكْبَتَيَّ ، فَرَآنِي أَبِي سَعْدٌ ، فَنَهَانِي ، وَقَالَ : إِنَّا كُنَّا نَفْعَلُهُ ، ثُمَّ نُهِينَا ، ثُمَّ أُمِرْنَا أَنْ نَرْفَعَهُمَا إِلَى الرُّكَبِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
حضرت مصعب بن سعد بیان کرتے ہیں کہ میں جب رُکوع کرتا تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھ لیتا ۔ میرے والد محترم سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے ( ایسے کرتے ہوئے ) دیکھا تو مجھے منع کیا اور فرمایا کہ بیشک ہم اسی طرح کیا کرتے تھے پھر ہمیں منع کر دیا گیا ، پھر ہمیں حُکم دے دیا گیا کہ ہم انہیں اپنے گھٹنوں کی طرف اُٹھایا کریں ( یعنی گھٹنوں پر رکھا کریں )
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 596
تخریج حدیث صحيح بخاري
حدیث نمبر: 597
نا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ الْيَشْكُرِيُّ ، نا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلادِ بْنِ رَافِعٍ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ : أَنَّ رَجُلا دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَصَلَّى ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، وَقَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثُمَّ إِذَا أَنْتَ رَكَعْتَ ، فَأَثْبِتْ يَدَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ حَتَّى يَطْمَئِنَّ كُلُّ عَظْمٍ مِنْكَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا تو اُس نے نماز پڑھی ، پھر مکمّل حدیث بیان کی ۔ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر جب تم رُکوع کرو تو اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر جما کر رکھو حتیٰ کہ تیری ہڈی ( رکوع میں ) مطمئن ہو جائے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 597
تخریج حدیث اسناده صحيح