کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: جن نمازوں میں امام جہری قرأت کرتا ہے ان میں سورہ فاتحہ کے اختتام پر بلند آواز سے آمین کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 569
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، وَهَذَا حَدِيثُ الْمَخْزُومِيِّ ، نا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ ، فَأَمِّنُوا ، فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تُؤَمِّنُ ، فَمَنَ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلائِكَةِ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " . قَالَ الْمَخْزُومِيُّ مَرَّةً : قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب قاری آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں ۔ لہٰذا جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوگئی اُس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 569
تخریج حدیث صحيح بخاري
حدیث نمبر: 570
أنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَمَنَّ الإِمَامُ فَأَمِّنُوا ، فَمَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلائِكَةِ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَمَنَّ الإِمَامُ ، فَأَمِّنُوا " : مَا بَانَ وَثَبَتَ أَنَّ الإِمَامَ يَجْهَرُ بِآمِينَ ، إِذْ مَعْلُومٌ عِنْدَ مَنْ يَفْهَمُ الْعِلْمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يَأْمُرُ الْمَأْمُومَ أَنْ يَقُولَ : آمِينَ عِنْدَ تَأْمِينِ الإِمَامِ ، إِلا وَالْمَأْمُومُ يَعْلَمُ أَنَّ الإِمَامَ يَقُولُهُ ، وَلَوْ كَانَ الإِمَامُ يُسِرُّ آمِينَ لا يَجْهَرُ بِهِ ، لَمْ يَعْلَمِ الْمَأْمُومُ أَنَّ إِمَامَهُ قَالَ : آمِينَ ، أَوْ لَمْ يَقُلْهُ ، وَمُحَالٌ أَنْ يُقَالَ لِلرَّجُلِ : إِذَا قَالَ فُلانٌ كَذَا : فَقُلْ مِثْلَ مَقَالَتِهِ ، وَأَنْتَ لا تَسْمَعُ مَقَالَتَهُ ، هَذَا عَيْنُ الْمُحَالِ ، وَمَا لا يَتَوَهَّمُهُ عَالِمٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ الْمَأْمُومَ أَنْ يَقُولَ آمِينَ ، إِذَا قَالَهُ إِمَامُهُ وَهُوَ لا يَسْمَعُ تَأْمِينَ إِمَامِهِ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَاسْمَعِ الْخَبَرَ الْمُصَرِّحَ بِصِحَّةِ مَا ذَكَرْتُ أَنَّ الإِمَامَ يَجْهَرُ بِآمِينَ عِنْدَ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو تو جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو گیا تو اُس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مبارک ” جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو ۔ “ میں اس بات کی دلیل ہے اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امام بلند آواز سے آمین کہے گا ، کیونکہ علم کو سمجھنے والا شخص بخوبی جانتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتدی کو امام کی آمین کے وقت آمین کہنے کا حُکم اسی وقت دیا ہے جب وہ اپنے امام کو آمین کہتے ہوئے سنے گا ۔ اور اگر امام آہستہ آواز سے آمین کہے اور اسے بلند آواز سے نہ کہے تو مقتدی کو پتہ نہیں چلے گا کہ اُس کے امام نے آمین کہی ہے یا نہیں اور یہ بات محال و ناممکن ہے کہ کسی شخص سے کہا جائے کہ فلاں شخص جب ایسے کہے تو تم بھی ویسے ہی کہنا حالانکہ تم اس کے قول کو سن نہ سکو ۔ یہ تو بالکل ہی ناممکن اور محال بات ہے ۔ ایسی محال بات کسی عالم شخص کے وہم میں بھی نہیں آسکتی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقتدی کو حُکم دیں کہ وہ اپنے امام کی آمین کے وقت آمین کہے حالانکہ وہ اپنے امام کی آمین کو سنتا ہی نہ ہو ۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لیجیئے اب وہ صریح اور واضح حدیث سنیئے جو ہماری بات کے صحیح ہونے کی دلیل ہے کہ « سورة الفاتحة » کی قراءت کرنے کے بعد بلند آواز سے آمین کہے گا ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 570
تخریج حدیث صحيح بخاري
حدیث نمبر: 571
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ ابْنُ الْعَلاءِ الزُّبَيْدِيُّ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَسَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ أُمِّ الْقُرْآنِ ، رَفَعَ صَوْتَهُ قَالَ : " آمِينَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اُم القرآن کی قراءت سے فارغ ہوتے تو اپنی بلند آواز سے آمین کہتے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 571
تخریج حدیث اسناده صحيح
حدیث نمبر: 572
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا أَبُو سَعِيدٍ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، كَانَ " إِذَا كَانَ مَعَ الإِمَامِ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَأَمَّنَ النَّاسُ ، أَمَنَّ ابْنُ عُمَرَ ، وَرَأَى تِلْكَ السُّنَّةَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
حضرت نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب امام کے ساتھ ہوتے اور وہ اُم القرآن پڑھتا تو لوگ آمین کہتے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی آمین کہتے اور وہ اسے سنّت سمجھتے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 572
تخریج حدیث اسناده صحيح
حدیث نمبر: 573
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، إِنْ كَانَ حَفِظَ اتِّصَالَ الإِسْنَادِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ بِلالٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَسْبِقْنِي بِآمِينَ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : هَكَذَا أَمْلَى عَلَيْنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ أَصْلِهِ . . الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَاصِمٍ ، فَقَالَ : عَنْ بِلالٍ ، وَالرُّوَاةُ إِنَّمَا يَقُولُونَ فِي هَذَا الإِسْنَادِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ : أَنَّ بِلالا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ آپ مجھ پر آمین ( کہنے ) میں سبقت نہ لیجائیں امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جناب محمد بن حسان نے یہ حدیث ہمیں اسی طرح املاء کراوئی ہے کہ یہ روایت امام سفیان ثوری اپنے استاد عاصم سے اور وہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ جبکہ دیگر رواۃ اس سند میں جناب عاصم کے استاد ابوعثمان کا اضافہ کرتے ہیں ( اور وہ کہتے ہیں کہ ) « ان بلا لا قال للنبي صلى الله عليه وسلم » ” سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 573
تخریج حدیث اسناده ضعيف