کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: فرض نماز میں آیت سجدہ تلاوت کرنے پر سجدہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: Q561
ضِدُّ قَوْلِ بَعْضِ أَهْلِ الْجَهْلِ مِمَّنْ لَا يَفْهَمُ الْعِلْمَ مِنْ أَهْلِ عَصْرِنَا مِمَّنْ زَعَمَ أَنَّ السَّجْدَةَ عِنْدَ قِرَاءَةِ السَّجْدَةِ فِي الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ غَيْرُ جَائِزَةٍ‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
ہمارے عہد کے کچھ جہلا کے دعوے کے خلاف جو علم کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور کہتے ہیں کہ فرض نماز میں آیت سجدہ تلاوت کرنے پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: Q561
حدیث نمبر: 561
نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الشَّهِيدِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، وَأَبُو الأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعَجَلِيُّ ، قَالُوا : نا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ الشَّهِيدِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي بَكْرٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ صَلاةَ الْعَتَمَةِ ، وَقَرَأَ : إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ ، فَسَجَدَ ، فَقُلْتُ لَهُ : مَا هَذِهِ السَّجْدَةُ ؟ قَالَ : سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . وَقَالَ الصَّنْعَانِيُّ : عَنْ أَبِيهِ ، وَزَادَ فِي آخِرِ الْخَبَرِ : فَلا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ . وَقَالَ أَبُو الأَشْعَثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ ، فَسَجَدَ بِهَا ، فَلا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
حضرت ابورافع بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاﺀ کی نماز پڑھی ، انہوں نے « إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ » [ سورة الإنشقاق ] کی تلاوت کی تو سجدہ کیا ۔ میں نے اُن سے عرض کی کہ یہ کیسا سجدہ ہے ؟ اُنہوں نے فرمایا، میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اس سورت میں سجدہ کیا ہے ۔ صنعانی نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے آخر میں ان الفاظ کا اضافہ بیان کیا ہے کہ میں ہمیشہ اس سورت میں سجدہ کرتا رہوں گا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( قیامت والے دن ) ملاقات کرلوں ۔ “ ابوالاشعث کہتے ہیں کہ « عن ابيه عن بكر بن عبدالله » وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورت میں سجدہ کیا لہٰذا میں ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرنے تک مسلسل اس سورت میں سجدہ کرتا رہوں گا ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 561
تخریج حدیث صحيح مسلم