کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ خداج جس کے متعلق بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں خبردار کیا ہے وہ ایسا نقص ہے جس کے ساتھ نماز کفایت نہیں کرتی
حدیث نمبر: Q490
إِذِ النَّقْصُ فِي الصَّلَاةِ يَكُونُ نَقْصَيْنِ، أَحَدُهُمَا لَا تُجْزِئُ الصَّلَاةُ مَعَ ذَلِكَ النَّقْصِ، وَالْآخَرُ تَكُونُ الصَّلَاةُ جَائِزَةً مَعَ ذَلِكَ النَّقْصِ لَا يَجِبُ إِعَادَتُهَا، ‏‏وَلَيْسَ‏‏ هَذَا النَّقْصُ مِمَّا يُوجِبُ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ مَعَ جَوَازِ الصَّلَاةِ‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
کیونکہ نماز میں نقص کی دو قسمیں ہیں:ایک نقص وہ ہے جس کے ہوتے ہوئے نماز کفایت نہیں کرتی-دوسرا نقص وہ ہے کہ جس کے ساتھ نماز درست ہوجاتی ہے ،اس کا اعادہ کرنا لازمی نہیں ہوتا اور یہ نقص نہیں ہے جو نماز کے درست ہونے کے ساتھ ساتھ سہو کے دو سجدوں کو واجب کرتا ہوـ
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: Q490
حدیث نمبر: 490
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُجْزِئُ صَلاةٌ لا يَقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " ، قُلْتُ : فَإِنْ كُنْتُ خَلْفَ الإِمَامِ ، فَأَخَذَ بِيَدِي ، وَقَالَ : " اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ يَا فَارِسِيُّ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نماز میں سورہ فاتحہ کی تلاوت نہ کی جائے وہ نماز کافی نہیں ہوتی ۔ “ وہ ( عبدالرحمان ) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی، اگر میں اما م کے پیچھے ( نماز پڑھ رہا ) ہوں ؟ تو اُنہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہ اے فارسی ( اس وقت ) اپنے دل میں پڑھ لیا کرو۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 490
تخریج حدیث اسناده صحيح