کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نماز میں ادھر اُدھر متوجہ ہونا نماز ( کے اجر و ثواب ) میں کمی کا باعث بنتا ہے ، لیکن یہ التفات نماز کو فاسد نہیں کرتا کہ نمازی کو نماز دہرانی پڑے ۔
حدیث نمبر: 484
نا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ أَيْضًا ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ تَمَامٍ الْمِصْرِيُّ ، نا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ ، نا أَبُو الأَحْوَصِ ، جَمِيعًا ، عَنْ أَشْعَثَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الالْتِفَاتِ فِي الصَّلاةِ ، فَقَالَ : " هُوَ اخْتِلاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلاةِ الْعَبْدِ " . وَفِي خَبَرِ أَبِي الأَحْوَصِ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْتِفَاتِ الرَّجُلِ فِي الصَّلاةِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں التفات کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ اُچک لینا ہے جسے شیطان بندے کی نماز سے اُچک لیتا ہے۔ “ ابوالاحوص کی روایت میں یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں آدمی کی بے توجہی اور اِدھر اُدھر جھا نکنے کے بارے میں سوال کیا ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 484
تخریج حدیث صحيح بخاري