کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس باب کی دلیل کا بیان کہ اس آیت میں ”شطر“ سے مراد جانب و طرف ہے نصف یا آدھے کے معنی میں نہیں ہے
حدیث نمبر: Q437
وَهَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ إِنَّ الْعَرَبَ قَدْ يُوقِعُ الِاسْمَ الْوَاحِدَ عَلَى الشَّيْئَيْنِ الْمُخْتَلِفَيْنِ، قَدْ يُوقِعُ اسْمَ الشَّطْرِ عَلَى النِّصْفِ وَعَلَى الْقِبَلِ أَيِ الْجِهَةِ‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور یہ بات اسی جنس سے ہے جس کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ عرب ایک ہی اسم کو دو مختلف چیزوں کے لیے استعمال کرلیتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: Q437
حدیث نمبر: 437
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، نا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : قَالَ الْبَرَاءُ : وَالشَّطْرُ فِينَا قِبَلَهُ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں بیت المقدس کی طرف مُنہ کرکے سولہ ماہ تک نماز پڑھی، پھر مکمّل حدیث بیان کی ۔ ابواسحاق کہتے ہیں کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک « شطر» سے مراد طرف و جانب ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 437
حدیث نمبر: 438
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ قَالَ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَنُلْزِمُكُمُوهَا مِنْ شَطْرِ أَنْفُسِنَا: مِنْ تِلْقَاءِ أَنْفُسِنَا " قَدْ خَرَّجْتُ هَذَا الْبَابَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ التَّفْسِيرِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
حضرت عمرو بن دینار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ( یہ آیت ) اس طرح پڑھی، کیا ہم تمیں اس بات پر اپنی طرف سے مجبور کر سکتے ہیں ۔ میں نے اس پہلو کو کتاب التفسیر میں مکمّل طور پر بیان کر دیا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 438
تخریج حدیث اسناده ضعيف