کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: کعبہ شریف کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کی ابتداء اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے حکم کی منسوخی کا بیان
حدیث نمبر: Q430
قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ مِنْ هَذَا الْبَابِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی اسی باب کے متعلق ہے
حدیث نمبر: 430
نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ يَعْنِي ابْنَ أَسَدٍ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، نا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَانُوا " يُصَلُّونَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} [البقرة: ١٤٤] مَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ فَنَادَاهُمْ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ أَلَا إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَمَالُوا رُكُوعًا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بیت المقدس کی طرف مُنہ کر کے نماز ادا کرتے تھے، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی : « فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ » [ سورة البقرة ] ” اپنے چہرے کو مسجد حرام کی طرف پھیر لیجیئے “ تو بنو سلمہ کا ایک آدمی گزار جبکہ وہ نماز فجر کے رُکوع میں تھے تو اُس نے اُنہیں پکار کر کہا کہ خوب جان لو کہ قبلہ، کعبہ شریف کی طرف بدل دیا گیا ہے تو وہ رُکوع ہی کی حات میں ( کعبہ شریف کی طرف ) مڑ گئے ۔
حدیث نمبر: 431
نا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانُوا يُصَلُّونَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَزَادَ وَاعْتَدَّوْا بِمَا مَضَى مِنْ صَلَاتِهِمْ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام بیت المقدس کی طرف مُنہ کر کے نماز پڑھتے تھے ، پھر مذکورہ بالا روایت کی طرح بیان کیا اور ان الفاظ کا اضافہ بیان کیا : ” اور اُنہوں نے اپنی گذشتہ نمازوں کو شمار کیا ۔ “