کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: نابینا شخص کو اذان دینے کی رخصت ہے جبکہ اسے وقت کی اطلاع کرنے والا موجود ہو
حدیث نمبر: 424
نا بُنْدَارٌ ، نا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ بِلالا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " . قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : وَسَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ بِذَلِكَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا ، قَالَ : وَإِنَّمَا كَانَ بَيْنَهُمَا قَدْرُ مَا يَنْزِلُ هَذَا ، وَيَصْعَدُ هَذَا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا عبدﷲ بن عمررضی اﷲعنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سیدنا بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت اذان دیتے ہیں تو تم (سحری) کھاتے پیتے رہو حتیٰ کہ سیدنا ابن اُم مکتُوم رضی اللہ عنہ اذان کہہ دیں ( تو تم رُک جاؤ ) عبیداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم کو یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے سنا ہے ، کہتے ہیں کہ ان دونوں کی اذان ) کے درمیان اتنا دقفہ ہوتا تھا کہ یہ ( اذان کہہ کر ) اُترتے اور یہ ( اذان کہنے کے لئے ) چڑھ جاتے ۔