کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: اس علت کا بیان جس کی وجہ سے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت اذان دیتے تھے
حدیث نمبر: 402
نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، نا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَذَانُ بِلالٍ مِنْ سَحُورِهِ ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ أَوْ يُنَادِي لِيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ وَيَنْتَبِهَ نَائِمُكُمْ ، وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَهَكَذَا ، حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا وَهَكَذَا " . حَدَّثَنَاهُ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ وَهُوَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، بِهَذَا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کسی شخص کو بلال رضی اللہ عنہ کی اذان اُس کی سحری سے نہ روکے کیونکہ وہ تو اس لئے اذان دیتے ہیں تا کہ تمہارا نفل پڑھنے والا ( آرام کرنے کے لئے ) لوٹ جائے اور تمہارا سونے والا جاگ جائے اور ( صبح کا وقت ) ایسے ایسے نہیں ہوتا حتیٰ کہ ( روشنی ) ایسے ایسے ہو جائے۔ “ امام صاحب فرماتے ہیں ہمیں یوسف بن موسیٰ نے بھی یہ روایت بیان کی ہے ۔