کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: سفر میں اذان اور اقامت کہنے کا حکم ہے اگرچہ دوافراد ہوں ، زیادہ نہ ہوں
حدیث نمبر: Q395
بِذِكْرِ خَبَرٍ لَفْظُهُ عَامٌّ مُرَادُهُ خَاصٌّ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اس سلسلے میں اس حدیث کا بیان جس کے الفاظ عام ہیں اور اس کی مراد خاص ہے
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: Q395
حدیث نمبر: 395
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، نا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، نا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَرَجُلٌ ، فَوَدَّعَنَا ، ثُمَّ قَالَ : " إِذَا سَافَرْتُمَا وَحَضَرَتِ الصَّلاةُ ، فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا ، وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا " . قَالَ الْحَذَّاءُ : وَكَانَا مُتَقَارِبَيْنِ فِي الْقِرَاءَةِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور ایک اور آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رخصت کیا تو فرمایا : ” جب تم دونوں سفر کرو اور نماز کا وقت ہو جائے تو اذان کہنا اور اقامت کہنا اور تم دونوں میں جو بڑا ہو اُسے تمہاری امامت کروانی چاہیے ۔ “ خالد حذاء کہتے ہیں کہ ہم دونوں قرآن مجید کی قرأت میں برابر تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 395
تخریج حدیث صحيح بخاري
حدیث نمبر: 396
نا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ : أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي ، فَقَالَ : " إِذَا سَافَرْتُمَا ، فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرا چچازاد بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ۔ تو ( الوداع کرتے وقت ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم دونوں سفر کرو تو اذان دو اور تکبیر کہو اور تم دونوں میں بڑا تمہاری امامت کروائے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأذان والإقامة / حدیث: 396
تخریج حدیث صحيح بخاري