کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: نماز کے لیے اذان بیٹھ کر کہنے کی بجائے کھڑے ہوکر کہنے کا حکم
حدیث نمبر: Q364
إِذِ الْأَذَانُ قَائِمًا أَحْرَى أَنْ يَسْمَعَهُ مَنْ بَعُدَ عَنِ الْمُؤَذِّنِ مِنْ أَنْ يُؤَذِّنَ وَهُوَ قَاعِدٌ.
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
کیونکہ کھڑے ہو کراذان کہنے سے مؤذن سے دور شخص بھی اذان بخوبی سن سکتا ہے جبکہ بیٹھ کر اذان کہنے سے یہ فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا
حدیث نمبر: 364
قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُمْ يَا بِلَالُ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ»
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
امام ابوبکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے بلال کھڑے ہو جاؤ اور نماز کے لیے اذان کہو ۔ “