کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: مسجد میں پیشاب کرنے والے کو پیشاب کو فارغ ہونے سے پہلے روکنا منع ہے
حدیث نمبر: Q296
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ صَبَّ دَلْوٍ مِنْ مَاءٍ يُطَهِّرُ الْأَرْضَ، وَإِنْ لَمْ يَحْفِرْ مَوْضِعَ الْبَوْلِ فَيَنْقُلُ تُرَابَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ عَلَى مَا زَعَمَ بَعْضُ الْعِرَاقِيِّينَ، إِذِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْعَمَ عَلَى عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ بِأَنْ بَعَثَ فِيهِمْ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُيَسِّرًا لَا مُعَسِّرًا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور اس دلیل کا بیان کہ ایک ڈول پانی بہا دینے سے زمین پاک ہو جاتی ہے اگر چہ پیشاب والی جگہ کو کھود کر مسجد سے باہر پھینکا جائے جیسا که بعض عراقیوں کا خیال ہے ( کہ مٹی مسجد سے باہر پھینک دینی چاہئے ) جبکہ الله تعالی نے اپنے مومن بندوں پر انعام و احسان کیا ہے کہ میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آسانی کرنے والا، تنگی کرنے والا بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 296
نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، نا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَوَثَبَ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُزْرِمُوهُ " ، ثُمَّ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بدو نے مسجد میں پیشاب کر دیا تو کچھ لوگ ( اُسے ڈانٹنے اور روکنے کے لئے ) اُس کی طرف لپکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” اس کاپیشاب نہ روکو، پھر ایک ڈول منگوا کراُس پر بہا دیا ۔ “
حدیث نمبر: 297
نا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَحْمَدِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَثَارَ النَّاسُ إِلَيْهِ لِيَمْنَعُوهُ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعُوهُ ، أَهْرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ ذَنُوبًا مِنْ مَاءٍ ، أَوْ سَجْلا مِنْ مَاءٍ ، فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے مسجد میں پیشاب کر دیا تو لوگ اُسے روکنے کے لئے اُس کی طرف دوڑے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : ” اسے چھوڑدو، اس کے پیشاب پر پانی سے بھرا ہوا ایک ڈول ڈال دو، بیشک تمہیں آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے، تنگی اور سختی کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا۔ “
حدیث نمبر: 298
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَفِظْتُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وَحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ الْجَزَرِيِّ ، نا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ صَدَقَةَ ، قَالَ : نا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ حُصَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وَحَدَّثَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، نا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَذَكَرُوا الْحَدِيثَ ، وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " إِنَّ فِي دِينِكُمْ يُسْرًا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
امام صاحب نے مذکورہ بالا روایت اپنے کئی اسا تذہ کی سند سے بیان کی ہے ، سفیان بن حصین کی روایت میں ہے کہ بیشک تمہارے دین میں آسانی ہے ۔