کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: جنبی شخص کے پسینے سے کپڑے کو دھونے کی رخصت ہے اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ جنبی کا پسینہ پاک ہے ، نجس نہیں
حدیث نمبر: 279
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اُس شخص کے متعلق پوچھا جو اپنی بیوی کے پاس آتا ہے ( اُس سے ہمبستری کرتا ہے ) پھر اپنے کپڑے پہنتا ہے تو اُسے اُس میں پسینہ آجاتا ہے ، کیا ناپاک ہوجاتے ہیں ؟ اُنہوں نے فرمایا کہ عورت پُرانےکپڑے کا ٹکڑا یا ٹکڑے رکھا کرتی تھی پھر جب یہ ہوتا ( یعنی مرد ہم بستری کرتا ) تو مرد اس ٹکڑے سے گندگی صاف کر لیتا اور وہ نہیں سمجھتا تھا کہ ( پسینے سے ) اس کے کپڑے ناپاک ہو جائیں گے۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس / حدیث: 279
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده صحيح
حدیث نمبر: 280
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ ، نا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " تَتَّخِذُ الْمَرْأَةُ الْخِرْقَةَ ، فَإِذَا فَرَغَ زَوْجُهَا ناوَلَتْهُ فَيَمْسَحُ عَنْهُ الأَذَى ، وَمَسَحَتْ عَنْهَا ، ثُمَّ صَلَّيَا فِي ثَوْبَيْهِمَا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ عورت پُرانے کپڑے کا ٹکڑا رکھ لے ، پھر جب اُس کا خاوند ( ‏‏‏‏جماع سے ) فارغ ہو جائے تو وہ اٗسے دے دے ، وہ اپنے جسم سے گندگی صاف کرلے اور وہ عورت بھی اپنے جسم سے صاف کر لے پھر وہ دونوں ( غسل کرنے کے بعد ) انہی کپڑوں میں نماز پڑھ لیں ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب تطهير الثياب بالغسل من الأنجاس / حدیث: 280
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده صحيح