کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ کئی عورتوں سے ( ایک وقت میں ) جماع کرنے سے ایک ہی غسل واجب ہوتا ہے
حدیث نمبر: 229
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : هَذَا خَبَرٌ غَرِيبٌ ، وَالْمَشْهُورُ عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عورتوں سے ایک ہی غسل کےساتھ شب باشی کیا کرتے تھے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے۔ مشہور سند میں معمر قتادہ سے روایت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 230
نا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَطِيفُ عَلَى نِسَائِهِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ " ، غَيْرُ أَنَّ الرِّبَاطِيَّ ، قَالَ : عَنْ مَعْمَرٍ ، وَقَالَ : " يَطُوفُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیں کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ( سب ) عورتوں سے ایک غسل سے شب باشی کیا کرتے تھے۔ ( امام صاحب کہتے ہیں ) رباطی (راوی) نے عن معمر کہا اور « يطيف » کی بجائے « يطوف » کہا ہے ( معنی ایک ہی ہے )۔
حدیث نمبر: 231
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَّازُ الْمَكِّيُّ ، نا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فِي السَّاعَةِ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ ، وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ " ، قَالَ : فَقُلْتُ لأَنَسٍ : وَهَلْ كَانَ يُطِيقُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : كُنَا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ أُعْطِي قُوَّةَ ثَلاثِينَ رَجُلا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات اور دن کے وقت ، میں ایک ہی غسل کے ساتھ اپنی تمام بیویوں کے پاس چکّر لگا لیا کرتے تھے اور وہ گیارہ تھیں ۔ ( قتادہ ) کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طاقت رکھتے تھے؟َ اُنہوں نے فرمایا کہ ہم ( آپس میں ) گُفتگو کیا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیس مردوں کی طاقت دی گئی ہے۔