کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: انزال کے بغیر جماع کرنے سے غسل نہ کرنے کی رخصت کے منسوخ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 225
نا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالا : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : فَقَالَ سَهْلٌ الأَنْصَارِيُّ وَقَدْ كَانَ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ فِي زَمَانِهِ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً ، حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، " أَنَّ الْفُتْيَا الَّتِي كَانُوا ، يَقُولُونَ : الْمَاءَ مِنَ الْمَاءِ ، رُخْصَةٌ رَخَّصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ الإِسْلامِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْغُسْلِ بَعْدَهَا " . نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، نَحْوَ حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ نا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : " كَانَ الْفُتْيَا فِي الْمَاءِ مِنَ الْمَاءِ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الإِسْلامِ ، ثُمَّ نُهِيَ عَنْهَا " . نا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، هَكَذَا حَدَّثَنَا بِهِ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا سہل انصاری رضی اللہ عنہ جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( کے زمانہ ) کو پایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں وہ پندرہ برس کے تھے، کہتے ہیں کہ مجھے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، وہ فتویٰ جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دیا کرتے تھے کہ پانی پانی سے ہے، غسل منی نکلنے سے واجب ہوتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدائے اسلام میں اس کی رخصت دی تھی، پھر بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کرنے کا حُکم دے دیا تھا۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ اپنے استاد احمد بن منیع رحمہ اللہ کی سند سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے فرمایا کہ پانی پانی سے واجب ہوتا ہے۔ یہ فتویٰ اسلام کے شروع میں بطور رخصت تھا پھر اس سے منع کر دیا گیا۔ امام صاحب ایک اور سند ذکر کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 226
نا أَبُو مُوسَى ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : إِنَّمَا كَانَ قَوْلُ الأَنْصَارِ : " الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ ، رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الإِسْلامِ ، ثُمَّ أُمِرْنَا بِالْغُسْلِ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : فِي الْقَلْبِ مِنْ هَذِهِ اللَّفْظَةِ الَّتِي ذَكَرَهَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَعْنِي قَوْلَهُ : أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ، وَأَهَابُ أَنْ يَكُونَ هَذَا وَهْمًا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَوْ مِمَّنْ دُونَهُ ، لأَنَّ ابْنَ وَهْبٍ رَوَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ أَرْضَى ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، هَذِهِ اللَّفْظَةُ حَدَّثَنِيهَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرٌو ، وَهَذَا الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يُسَمِّهِ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ أَبَا حَازِمٍ سَلَمَةُ بْنُ دِينَارٍ ، لأَنَّ مَيْسَرَةَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ رَوَى هَذَا الْخَبَرَ عَنْ أَبِي غَسَّانَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ ، وَقَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْحَمَّالُ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار صحابہ کا یہ فتوی تھا کہ ( غسل کا ) پانی ( منی کے ) پانی سے واجب ہوتا ہے۔ یہ ابتدائے اسلام میں رخصت تھی پھر ہمیں غسل کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ امام ابو بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن جعفر نے اپنی روایت میں جو یہ کہا ہے کہ « اخبرني سهل بن سعد » ” مجھے سھل بن سعد نے روایت بیان کی۔ “ تو اس لفظ کے بارے میں میرے دل میں کھٹکا ہے، مجھے خدشہ ہے کہ یہ محمد بن جعفر یا ان سے نیچے کے کسی راوی کا وہم ہے ( یعنی امام زہری یہ روایت براہ راست حضرت سہل سے بیان نہیں کرتے بلکہ ان کے درمیان ایک استاد کا واسطہ ہے ) کیونکہ ابن وھب نے عمرو بن حارث سے اور انہوں نے امام زہری سے روایت کی تو انہوں نے کہا کہ « اخبرني من ارضي عن سهل بن سعد عن ابي بن كعب » ” مجھے میرے پسندیدہ استاد نے حضرت سہل بن سعد سے اور انہوں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے۔ “ امام صاحب کہتےہیں کہ مجھے یہ روایت احمد بن عبدالر حمان بن وہب نے اپنے چچا سے اور اُنہوں نے عمرو سے بیان کی ہے۔ اورعمر وبن حارث نے اپنی سند میں شخص کا نام نہیں لیا ( اور اسے پسنددیدہ شخص قرار دیا ہے ) ممکن ہے وہ ابوحازم سلمہ بن دینار ہوں۔ کیونکہ میسرہ بن اسماعیل نے یہ حدیث غسان محمد بن مطرف سے اور اُنہوں نے ابو حازم سے اور انہوں نے سہل بن سعد سے اور انہوں نے مسلم بن حجاج سے بیان کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ابو جعفر حمال نے بیان کیا ہے۔