کتب حدیث › صحيح ابن خزيمه › ابواب › باب: وضو اور غسل کے لئے نیت کرنا واجب ہے
❮
❯
نا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ ، وَإِنَّمَا لامْرِئٍ مَا نَوَى ، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ " . لَمْ يَقُلْ أَحْمَدُ : وَإِنَّمَا لامْرِئٍ مَا نَوَى
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” اعمال ( کی قبولیت ) کا دارو مدار نیت پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی ۔ ( یعنی اچھی یا بُری نیت کے مطابق جزا یا سزا ملے گی ) تو جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہوئی تو اُس کی ہجرت اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے۔ اور جس شخص کی ہجرت دنیا کے حصول کے لئے یا کسی عورت سے شادی کے لیے تھی تو اُس کی ہجرت اُس کی طرف ہے جس کی طرف اُس نے ہجرت کی۔ احمد کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔ « وانما لامري ما نوي » ” آدمی کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔“
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الوضوء وسننه / حدیث: 142
تخریج حدیث صحيح بخاري
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ ، وَإِنَّمَا لامْرِئٍ مَا نَوَى "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” اعمال ( کا اجر ثواب ) نیت کے مطابق ہے۔ اور آدمی کے لیے وہی ہے جو اُس نے نیت کی۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الوضوء وسننه / حدیث: 143