کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: ٹب اور بڑے پیالوں سے وضو کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 127
نا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، نا ابْنُ عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، فَبَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ " فَبَالَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، ثُمَّ نَامَ ، ثُمَّ قَامَ وَأَطْلَقَ شِنَاقَ الْقِرْبَةِ ، فَصَبَّ فِي الْقَصْعَةِ أَوِ الْجَفْنَةِ ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ ، وَقَامَ يُصَلِّي ، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ ، فَجِئْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاک میں رہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو کیسے نماز پڑھتے ہیں۔ لہذا ( رات کو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، پھر اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( کچھ دیر آرام کرنے کے بعد ) اُٹھے اور مشکیزے کی رسی کھولی، اور بڑے پیالے یا ٹب میں پانی اُنڈیلا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو وضوں کے درمیان وضو کیا ( نہ بہت اعلیٰ نہ بہت ہلکا ) اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنا شروع کر دی، تو میں اُٹھا اور میں نے بھی وضو کیا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب آکر ( کھڑا ہوگیا ) توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نےمجھے ( کان سے ) پکڑ کراپنی دائیں جانب کھڑا کرلیا۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأواني اللواتي يتوضأ فيهن أو يغتسل / حدیث: 127
تخریج حدیث صحيح مسلم