باب: اس حدیث کا بیان جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پانی کے ناپاک ہونے کی نفی کے بارے میں مجمل غیر مفسر الفاظ کے ساتھ مروی ہے ، اس کے الفاظ عام ہین اور اس سے مراد خاص ہے
حدیث 91–91
باب: گذشتہ مجمل روایت کی مفسرروایت کا بیان
حدیث 92–92
باب: کھڑے پانی میں جنبی کے نہانے کی ممانعت کا بیان ، عام الفاظ کے ساتھ جب کہ اس سے مراد خاص ہے ۔
حدیث 93–93
باب: اس کھڑے پانی سے وضو کرنے اور پینے کی ممانعت کا بیان جس میں پیشاب کیا گیا ہو ، اس کا بیان عام الفاظ کے ساتھ ہے جبکہ مراد خاص ہے
حدیث 94–94
باب: کتّا برتن میں منہ ڈال دے تو اسے دھونے کا حکم ہے
حدیث 95–97
باب: جس پانی میں کُتّا منہ ڈال دے اسے بہانے اور برتن کو دھونے کا حکم ہے
حدیث 98–98
باب: نیند سے بیدار ہونے والے شخص کا ، اپنا ہاتھ دھوئے بغیر برتن میں ڈالنے کی ممانعت ہے
حدیث 99–99
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ” وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے “ سے آپ کی مراد یہ ہے کہ اسے علم نہیں ہے کہ اس کا ہاتھ اس کے جسم پر کہاں لگا ہے
حدیث 100–100
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ جس جانور کا گوشت کھایا جاتا ہے اس کی گوبر اگر پانی میں مل جائے تو وہ پانی ناپاک نہیں
حدیث 101–101
باب: بلّی کے جوٹھے سے وضو کرنے کی رخصت ہے
حدیث 102–104
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ مکّھی کا پانی میں گرنا اسے ناپاک نہیں کرتا
حدیث 105–105
باب: استعمال شدہ پانی سے وضو کرنا جائز ہے
حدیث 106–106
باب: وضو کرنے والے کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنا جائز ہے
حدیث 107–107
باب: عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنا جائز ہے ۔
حدیث 108–108
باب: عورت کے غسل جنابت سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنا جائز ہے
حدیث 109–109
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ حائضہ عورت کا جوٹھا ناپاک نہیں ہے
حدیث 110–110
باب: سمندر کے پانی سے غسل اور وضو کرنے کی رخصت ہے کیونکہ اس کا پانی پاک اور اس کا مردار حلال ہے
حدیث 111–112
باب: مشرکوں کے برتنوں اور مشکیزوں میں موجود پانی سے وضو اور غسل کرنے کی رخصت ہے ،
حدیث 113–113
باب: مردار کے دباغت شدہ چمڑے میں موجود پانی سے وضوکرنا جائز ہے
حدیث 114–114
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب ناپاک نہیں ہے اور اگر وہ پانی میں مل جائے تو پانی پلید نہیں ہوتا
حدیث 115–115
باب: ایک مد پانی سے وضو کرنے کی اجازت کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی حدیث کا بیان
حدیث 116–116
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ وضو کرنے کے لیے ایک مد پانی کی مقدار مقرر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک مد پانی سے کیا گیا وضو درست ہے
حدیث 117–117
باب: ایک مد سے کم پانی سے وضو کرنے کی رخصت ہے
حدیث 118–118
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ وضو کرنے کے لیے پانی کی اسی مقدار مقرر نہیں ہے کہ جس سے کمی و بیشی کرتے ہوئے وضو کرنے والا تنگی اور حرج محسوس کرے
حدیث 119–121
باب: وضو کرتے وقت پانی کے استعمال میں میانہ روی مستحب ہے اور اسراف کرنا مکروہ ہے ۔ نیز پانی کے وسوسے سے بچنا چاہئے
حدیث 122–122
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔