کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ بے وضو شخص پر نماز کے وقت سے پہلے وضو واجب نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 35
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ زِيَادٌ : قَالَ : ثنا أَيُّوبُ ، وَقَالَ الآخَرَانِ : عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْخَلاءِ ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ ، فَقَالُوا : أَلا نَأْتِيكَ بِوَضُوءٍ ؟ فَقَالَ : " إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوَضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلاةِ " . وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ : لِلصَّلاةِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلا سے ( قضائے حاجت کے بعد ) نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا لایا گیا۔ صحابہ کرام نے عرض کی کہ کیا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی لائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیشک مجھے وضو کرنے کا حُکم اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوں۔ “ دورقی کی روایت میں « الي الصلاة » کی بجائے « للصلاة » لفظ ہے ۔ ( معنی ایک ہی ہے )