حدیث نمبر: 998
حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ بِلالٍ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَنَامَ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَأَمَرَ بِلالا ، فَأَذَّنَ ، فَتَوَضَّئُوا ، ثُمَّ صَلَّوَا الرَّكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ صَلَّوَا الْغَدَاةَ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : فِي خَبَرِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : فَأَمَرَ بِلالا ، فَأَذَّنَ ، ثُمَّ أَقَامَ ، فَصَلَّى بِنَا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حُکم دیا تو اُنہوں نے اذان کہی ۔ ( دیگر صحابہ نے وضو کیا، پھر اُنہوں نے دو رکعتیں ادا کیں، پھر صبح کی فرض نماز ادا کی ۔ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود کی روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حُکم دیا تو اُنہوں نے اذان پڑھی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 998
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده منقطع