صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الفريضة فى السفر— سفر میں فرض نماز کی ادائیگی کے ابواب کا مجموعہ
(392) بَابُ نُزُولِ الرَّاكِبِ لِصَلَاةِ الْفَرِيضَةِ فِي السَّفَرِ، باب: سفر میں سوار کا فرض نماز پڑھنے کے لئے سواری سے اترنا ،
فَرْقًا بَيْنَ الْفَرِيضَةِ وَالتَّطَوُّعِ فِي غَيْرِ الْمُسَابَقَةِ وَالْتِحَامِ الْقِتَالِ وَمُطَارَدَةِ الْعَدُوِّفرض اور نفل نماز میں فرق کہ وجہ سے ، اگر وہ اس وقت کسی مقابلے میں شریک ، دشمن سے گھمسان کی جنگ یا دشمن پر حملہ آور نہ ہو ( کیونکہ ان صورتوں میں فرض نماز بھی سواری پر پڑھنا جائز ہے )
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ بِالإِسْكَنْدَرِيَّةَ ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ ، فَكَانَ يُصَلِّي التَّطَوُّعَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُسْتَقْبِلَ الشَّرْقِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ الْمَكْتُوبَةَ نَزَلَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ نَسَبُهُ إِلَى جَدِّهِسیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں شریک تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز اپنی سواری پر مشرق کی جانب منہ کر کے پڑھتے تھے ۔ پھر جب فرض نماز پڑھنا چاہتے تو نیچے اُتر کر قبلہ رخ ہوکر پڑھتے ۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ محمد بن ثوبان سے مراد محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان ہے اس کی نسبت ( باپ کے بجائے ) اس کے دادا ثوبان کی طرف گئی ہے ۔