صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الفريضة فى السفر— سفر میں فرض نماز کی ادائیگی کے ابواب کا مجموعہ
(381) بَابُ إِبَاحَةِ قَصْرِ الْمُسَافِرِ الصَّلَاةَ فِي الْمُدُنِ إِذَا قَدِمَهَا، مَا لَمْ يَنْوِ مَقَامًا يُوجِبُ إِتْمَامَ الصَّلَاةِ باب: مسافر کے کسی شہر میں آکر نماز قصر کرنے کا بیان ، جب تک وہ اتنے دن قیام کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو کہ جس میں مکمّل نماز پڑھنا واجب ہو جاتا ہے
حدیث نمبر: 951
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، نَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نَا مُحَمَّدٌ ، قَالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُوسَى ، يَقُولُ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ كَيْفَ أُصَلِّي بِمَكَّةَ إِذَا لَمْ أُصَلِّ فِي جَمَاعَةٍ ؟ فَقَالَ : " رَكْعَتَيْنِ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . وَقَالَ بُنْدَارٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ .محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب موسیٰ رحمه الله سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ” مکّہ مکرّمہ میں نماز کیسے ادا کروں جبکہ میں نے جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھی ہو ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت کے مطابق دو رکعتیں پڑھو ۔ بندار کہتے ہیں کہ میں نے قتادہ کو سنا ، وہ حضرت موسیٰ بن سلمہ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا ۔