صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي— نماز میں نا پسندیدہ افعال کے ابواب کا مجموعہ جن سے نمازی کو منع کیا گیا ہے
(374) بَابُ نَفْيِ قَبُولِ صَلَاةِ الْمَرْأَةِ الْغَاضِبَةِ لِزَوْجِهَا، وَصَلَاةِ الْعَبْدِ الْآبِقِ باب: شوہر کو ناراض کرنے والی عورت اور بھگوڑے غلام کی نماز قبول نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 940
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلاثَةٌ لا يَقْبَلُ اللَّهُ لَهُمْ صَلاةً وَلا يَصْعَدُ لَهُمْ حَسَنَةٌ : الْعَبْدُ الآبِقُ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَوَالِيهِ ، فَيَضَعُ يَدَهُ فِي أَيْدِيهِمْ ، وَالْمَرْأَةُ السَّاخِطُ عَلَيْهَا زَوْجُهَا حَتَّى يَرْضَى ، وَالسَّكْرَانُ حَتَّى يَصْحُوَ " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا جابر بن عبدﷲ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تین شخص ایسے ہیں کہ اُن کی نماز قبول نہیں ہوتی اور نہ ُان کے نیک عمل اوپر چڑھتے ہیں ، بھگوڑا غلام حتیٰ کہ وہ اپنے آقاؤں کے پاس لوٹ آئے اور اپنا ہاتھ اُن کے ہاتھوں میں دے دے ( یعنی اُن کا فرماں بردار بن جائے ) اور وہ عورت جس کا خاوند اُس پر ناراض ہو حتیٰ کہ وہ راضی ہو جائے ، اور نشے میں مد ہوش شخص حتیٰ کہ اُسے ہوش آجائے ۔ “