صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة— اس پانی کے ابواب کے مجموعے کا بیان جو ناپاک نہیں ہوتا اور وہ پانی جو نجاست ملنے سے ناپاک ہو جاتا ہے
(72) بَابُ النَّهْيِ عَنِ اغْتِسَالِ الْجُنُبِ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ، بِلَفْظٍ عَامٍّ مُرَادُهُ خَاصٌّ باب: کھڑے پانی میں جنبی کے نہانے کی ممانعت کا بیان ، عام الفاظ کے ساتھ جب کہ اس سے مراد خاص ہے ۔
وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ "- لَفْظٌ عَامٌّ مُرَادُهُ خَاصٌّ عَلَى مَا بَيَّنْتُ قَبْلُ- أَرَادَ الْمَاءَ الَّذِي يَكُونُ قُلَّتَيْنِ فَصَاعِدًااس میں دلیل بھی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی“ کے الفاظ عام ہیں جب کہ ان سے مراد خاص ہے ۔ جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے کہ آپ کی مراد وہ پانی ہے جو دو مٹکے یا اس سے زیادہ ہو
نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَغْتَسِلْ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ " ، قَالَ : كَيْفَ يَفْعَلُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ : يَتَنَاوَلُهُ تَنَاوُلاسیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ” تم میں سےکوئی شخص کھڑے پانی میں غسل نہ کرے جبکہ وہ جنبی ہو۔ “ اس نے عرض کی کہ اے ابوہریرہ ، پھر وہ کیسے ( غسل ) کرے ؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ وہ ( اُس میں سے ) پانی لے لے ( اور با ہر بیٹھ کر غسل کرے ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
➊ جنبی حالت میں کھڑے پانی میں نہانے کی ممانعت ہے۔ بلکہ جنبی کو چاہیے کہ وہ پانی لے کر پانی کے ایک طرف ہو کر نہائے اس لیے کہ اگر اس کے جسم پر جنابت وغیرہ کی آرائش ہو تو دو مٹکوں سے کم مقدر میں پانی میں وہ آلائش گرتے ہی پانی نجس ہو جائے گا اور اس پانی سے طہارت حاصل نہیں ہو گی، لٰہذا اس کا غسل کرنا بے فائدہ ہو گا۔
➋ بہتے ہوئے پانی میں غوطہ لگانا یا اس میں کھڑے ہو کر نہانا جنبی کے لیے جائز ہے۔