صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي— نماز میں نا پسندیدہ افعال کے ابواب کا مجموعہ جن سے نمازی کو منع کیا گیا ہے
(364) بَابُ كَرَاهَةِ نَظَرِ الْمُصَلِّي إِلَى مَا يَشْغَلُهُ عَنِ الصَّلَاةِ باب: نماز سے مشغول کردینے والی چیزوں کی طرف نمازی کا دیکھنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 928
نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلامٌ ، فَقَالَ : " شَغَلَتْنِي أَعْلامُ هَذِهِ ، اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَائْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةٍ " قَالَ الْمَخْزُومِيُّ : عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَقَالَ أَيْضًا : بِأَنْبِجَانِيَّةٍ .محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نقش و نگار والی ایک چادر میں نماز پڑھی تو فرمایا : ” مجھے اس کے بیل بوٹوں نے مشغول کر دیا تھا ۔ لہٰذا یہ چادر حضرت ابوجہم کو دے آؤ اور مجھے انبجان کی بنی ہوئی ( سادہ ) چادر لا دو ۔ “ جناب مخزومی کی زہری سے جو روایت ہےاس میں بھی « انبجانية » کے الفاظ ہیں ۔ امام صاحب ایک اور سند سے یہی روایت بیان کرتے ہیں ۔