حدیث نمبر: 923
إِذِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قِبَلَ وَجْهِ الْمُصَلِّي مَا دَامَ فِي صَلَاتِهِ مُقْبِلًا عَلَيْهِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

کیونکہ اللہ عزوجل نمازی کے چہرے کی جانب ہوتے ہیں جب تک نمازی اپنی نماز میں اُس کی طرف متوجہ رہتا ہے ۔

نَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، أنا أَيُّوبُ ، ح وَحَدَّثَنِي مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا ، أَوْ قَالَ : فَحَتَّهَا بِيَدِهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِمْ ، وَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قِبَلَ وَجْهِ أَحَدِكُمْ فِي صَلاتِهِ ، فَلا يَنْتَخِمَنَّ أَحَدٌ قِبَلَ وَجْهِهِ فِي صَلاتِهِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلے میں بلغم دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ سے رگڑ کر صاف کر دیا یا فرمایا کہ اپنے ہاتھ سے کھرچ دیا ، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور اُن پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ۔ اور فرمایا : ” بیشک ﷲ تعالیٰ تم میں سے کسی شخص کی نماز میں اُس کے چہرے کے سامنے ہوتے ہیں ۔ لہٰذا کوئی شخص اپنی نماز میں اپنے چہرے کی جانب ہر گز ہرگز بلغم نہ پھینکے ۔ “

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي / حدیث: 923