حدیث نمبر: 922
حَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ ، وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلا يَقُلْ : آهْ آهْ ؛ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ مِنْهُ ، أَوْ قَالَ : يَلْعَبُ بِهِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بیشک اللہ چھینک کو پسند فرماتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے ، تو جب تم میں سے کسی شخص کو جمائی آئے تو وہ آہ ، آہ کی آواز نہ نکالے ، کیونکہ اس سے شیطان ہنستا ہے یا فرمایا : ” وہ اس کے ساتھ کھیلتا ہے ۔ “

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي / حدیث: 922
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده حسن