صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الأفعال المباحة فى الصلاة— نماز میں جائیز افعال کے ابواب کا مجموعہ
(342) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ حَدِيثَ النَّفْسِ فِي الصَّلَاةِ مِنْ غَيْرِ نُطْقٍ بِاللِّسَانِ، لَا يُفْسِدُ الصَّلَاةَ، باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نماز میں دل کی باتوں کو بغیر زبان پر لائے نماز نہیں ٹوٹتی
حدیث نمبر: 898
إِذِ اللَّهُ بِرَأْفَتِهِ وَرَحْمَتِهِ قَدْ تَجَاوَزَ لَأُمَّةِ مُحَمَّدٍ عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَامحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
کیونکہ اللہ تعالی نے اپنی شفقت و رحمت سے اُمت محمدیہ کی دل کی باتوں کو معاف فرما دیا ہے
نَا بُنْدَارٌ ، نَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، نَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لا يُنْطَقُ بِهِ ، وَلا يُعْمَلُ بِهِ " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ نے میری اُمّت کو ان کے دلوںکی باتیں ( دل میں آنے والے خیالات وسوسے ) معاف فرما دیے ہیں جب تک وہ انہیں زبان سے ادا نہ کرلیں یا ان کے مطابق عمل نہ کرلیں ۔ “