صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الأفعال المباحة فى الصلاة— نماز میں جائیز افعال کے ابواب کا مجموعہ
(339) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي تَنَاوُلِ الْمُصَلِّي الشَّيْءَ عِنْدَ الْحَادِثَةِ تَحْدُثُ باب: کسی حادثہ کے رونما ہونے پر نمازی کے لئے کوئی چیز پکڑنے کی رخصت ہے
نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابَقٍ الْخَوْلانِيُّ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الصُّبْحِ ، قَالَ : فَبَيْنَمَا هُوَ فِي الصَّلاةِ مَدَّ يَدَهُ ، ثُمَّ أَخَّرَهَا ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلاةِ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَنَعْتَ فِي صَلاتِكَ هَذِهِ مَا لَمْ تَصْنَعْ فِي صَلاةٍ قَبْلَهَا ، قَالَ : " إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ قَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ ، وَرَأَيْتُ فِيهَا . قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ ، حَبُّهَا كَالدُّبَّاءِ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْهَا ، فَأُوحِيَ إِلَيْهَا أَنِ اسْتَأْخِرِي ، فَاسْتَأْخَرَتْ ، ثُمَّ عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ ، بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ حَتَّى رَأَيْتُ ظِلِّيَ وَظِلَّكُمْ ، فَأَوْمَأْتُ إِلَيْكُمْ أَنِ اسْتَأْخَرُوا ، فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنْ أَقِرَّهُمْ ، فَإِنَّكَ أَسْلَمْتَ وَأَسْلَمُوا ، وَهَاجَرْتَ وَهَاجَرُوا ، وَجَاهَدْتَ وَجَاهَدُوا ، فَلَمْ أَرَ لِي عَلَيْكُمْ فَضْلا إِلا بِالنُّبُوَّةِ " سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز ادا کی ، اس دوران کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا پھر پیچھے کر لیا ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز میں ایک ایسا کام کیا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے قبل کسی نماز میں نہیں کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک میں نے جنّت دیکھی ، وہ مجھے دکھائی گئی ، میں نے اس میں دیکھا کہ اس کے پھل اور میوے قریب اور جُھکے ہوئے ہیں ، اور اس کا دانہ کدو جیسا (موٹا تازہ ) ہے ، چنانچہ میں نے ان میووں میں سے لینا چاہا تو جنّت کو حُکم دیا گیا کہ پیچھے ہٹ جا تو وہ پیچھے ہٹ گئی - پھر مجھے جہنّم دکھائی گئی میرے اور تمہارے درمیان حتیٰ کہ میں نے اپنا سایہ اور تمھارا سایہ دیکھا ، میں نے تمھاری طرف اشارہ کیا کہ پیچھے ہو جاؤ تو میری طرف وحی کی گئی کہ میں انہیں ( صحابہ کو ) ثابت قدم رکھوں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسلمان ہیں اور وہ بھی اسلام قبول کر چکے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی اور انہوں نے بھی ہجرت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کیا تو انہوں نے بھی جہاد میں شرکت کی ہے ، تو میں نے تم پر نبوت کے سوا اپنی کوئی فضیلت نہ پائی ۔ “