حدیث نمبر: 891
نَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، أَنَّهُ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ، ثُمَّ بَسَطَ يَدَهُ كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلاةِ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ بَسَطْتَ يَدَكَ ، قَالَ : " إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي ، فَقُلْتُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ، فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلاثًا ، ثُمَّ أَرَدْتُ أَخْذَهُ ، وَلَوْلا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، لأَصْبَحَ مُوثَقًا ، يَلْعَبُ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی چیز پکڑ رہے ہوں ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ بڑھاتے ہوئے دیکھا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تھا تاکہ اسے میرے چہرے پر ماردے تو میں نے کہا کہ میں تجھ سے ﷲ کی پناہ میں آتا ہوں ، مگر وہ پیچھے نہ ہٹا ، تین بار میں نے یہ دعا پڑھی ۔ پھر میں نے اُسے پکڑنے کا ارادہ کر لیا ۔ اور اگر ہمارے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح کے وقت بندھا ہوا ہوتا ، اور اہل مدینہ کے بچّے اُس سے کھیلتے ۔ “

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الأفعال المباحة فى الصلاة / حدیث: 891
تخریج حدیث صحيح مسلم