حدیث کتب › صحيح ابن خزيمه › جماع أبواب الكلام المباح فى الصلاة والدعاء والذكر، ومسألة الرب عز وجل وما يضاهي هذا ويقاربه
صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الكلام المباح فى الصلاة والدعاء والذكر، ومسألة الرب عز وجل وما يضاهي هذا ويقاربه— نماز میں جائز گفتگو ، دعا ، ذکر اور رب عزوجل سے مانگنے اور اس سے مشابہ اور اس جیسے ابواب کا مجموعہ ۔
(316) بَابُ ذِكْرِ مَا خَصَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خصوصیت کا بیان جس کے ساتھ اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مختص کیا ہے اور اس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے درمیان فرق و امتیاز کر دیا ہے
حدیث نمبر: 863
فَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ مِنْ كِتَابِ شُعْبَةَ ، وَثنا يَحْيَى ، وَمُحَمَّدٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ خُبَيْبٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى ، قَالَ : مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُصَلِّي ، فَدَعَانِي بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : أَعْظَمُ سُورَةٍمحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوسعید بن معلیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا ۔ مذکورہ بالا روایت کی طرح روایت بیان کی ، مگر اس میں ( افضل ترین سورت کی بجائے )عظیم ترین سورت کے الفاظ ہیں ۔