حدیث نمبر: 862
نَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى ، قَالَ : مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا فِي الْمَسْجِدِ ، فَدَعَانِي ، فَلَمْ آتِهِ ، فَقَالَ : " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنِي " قُلْتُ : إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي ، قَالَ : أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ سورة الأنفال آية 24 ثُمَّ قَالَ : " أَلا أُعَلِّمُكَ أَفْضَلَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ " ، فَلَمَّا ذَهَبَ يَخْرُجُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 ، هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابوسعید بن معلیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے جبکہ میں مسجد میں ( نماز پڑھ رہا ) تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا مگر میں حاضر نہ ہوا ( اور نماز جاری رکھی پھر جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میرے پاس کیوں نہیں آئے تھے ؟ “ میں نے عرض کی کہ میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا “ « يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ » [ سورة الأنفال : 24 ] ” اے ایمان والو ، تم اللہ اور رسول کے کہنے کو بجالاؤ جبکہ وہ تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف بلاتے ہوں ـ “ پھر فرمایا : ” کیا میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے پہلے قرآن مجید کی افضل ترین سورت نہ سکھاؤں ؟ “ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکلنے لگے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کرایا ـ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” « الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ » یعنی ( سورۃ فاتحہ ) یہ بار بار پڑھی جانے والی سات آیات ( سبع مثانی ) ہیں یہی وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے ۔ “

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الكلام المباح فى الصلاة والدعاء والذكر، ومسألة الرب عز وجل وما يضاهي هذا ويقاربه / حدیث: 862
تخریج حدیث صحيح بخاري