حدیث کتب › صحيح ابن خزيمه › جماع أبواب الكلام المباح فى الصلاة والدعاء والذكر، ومسألة الرب عز وجل وما يضاهي هذا ويقاربه
صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الكلام المباح فى الصلاة والدعاء والذكر، ومسألة الرب عز وجل وما يضاهي هذا ويقاربه— نماز میں جائز گفتگو ، دعا ، ذکر اور رب عزوجل سے مانگنے اور اس سے مشابہ اور اس جیسے ابواب کا مجموعہ ۔
(313) بَابُ نَسْخِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، وَحَظْرِهِ بَعْدَمَا كَانَ مُبَاحًا باب: نمازمیں کلام کے منسوخ ہونے اور اس کے جائز ہونے کے بعد ممنوع ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 856
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالا : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، ح وَنا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : " كَانَ يُكَلِّمُ الرَّجُلُ إِلَى جَنْبِهِ فِي الصَّلاةِ ، حَتَّى نَزَلَتْ ، وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238 زَادَ فِي حَدِيثِ هُشَيْمٍ : فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ ، وَنُهِينَا عَنِ الْكَلامِ " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آدمی نماز میں اپنے پہلو میں کھڑے شخص سے بات کر لیتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہو گئی « وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ » [ سورة البقرة : 238 ] ” اور اللہ کے لئے عاجزی کرنے والے بن کر کھڑے ہو “ ، جناب ہثیم کی روایت میں یہ اضافہ ہے تو ہمیں خاموش رہنے کا حُکم دے دیا گیا اور گفتگو کرنے سے منع کر دیا گیا ۔